اس کارروائی کے دوران متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا، تاہم وزیراعظم نواز شریف نے گرفتار کیے جانے والے تمام مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد کے ڈی چوک میں پارلیمان کے سامنے پیر کو تقریباً تین بجے احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔
مظاہرین جب پارلیمان کی طرف جانے کے لیے چل پڑے تو پولیس نے انھیں روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
مقامی پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے یہاں پر احتجاجی کیمپ لگانے کی اجازت نہیں لی تھی، اس لیے انھیں ہٹایا جا رہا ہے۔
مظاہرین میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ پولیس نے احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کیا۔
اس کارروائی میں محکمۂ پولیس کے اینٹی رائٹ یونٹ (بلوہ پولیس) نے حصہ لیا۔
مقامی ٹی وی چینلوں پر دکھائے گئے مناظر میں خواتین پولیس اہلکاروں کو احتجاج کرنے والے خواتین کو مارتے اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا۔
پولیس نے میڈیا کے افراد کو بھی ہٹانے کی کوشش کی۔
مظاہرین کے رہنماؤں کو پولیس کی طرف سے حراست میں لینے باوجود باقی مظاہرین کا ڈی چوک پر احتجاج جاری رہا۔
اس واقعے کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے مظاہرین پر پولیس کے تشدد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔
بی بی سی اردو
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…