برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ حلب کے جنوبی علاقے فردوس میں اتوار کو بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت انتیس افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے شہر کے ایک اور علاقے بائدین میں بیرل بم برسائے ہیں۔ان کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایک اور گاؤں جبورین پر بیرل بم کے حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔
درایں اثناء شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے صالحہ میں مارٹروں کے حملے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔سانا نے ”دہشت گردوں” پر اس مارٹر حملے کا الزام عاید کیا ہے۔شام کا سرکاری میڈیا اور حکومت باغی جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے۔
شام میں مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی مزاحمتی تحریک اور اس کے نتیجے میں خانہ جنگی میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے۔
شام میں خونریز تنازعے کا آغاز مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہروں سے ہوا تھا لیکن اسدحکومت کی جانب سے ان پُر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کے بعد عوامی مزاحمتی تحریک تشدد کا رخ اختیار کر گئی تھی اور مکمل خانہ جنگی بن گئی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…