تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے جیو نیوز کو نامعلوم مقام سے فون کر کے کہا ہے کہ میڈیا پر چلنے والے بعض عناصر تحریک طالبان کے درمیان معمولی تلخی کو بنیاد بنا کر پر وپیگنڈہ مہم میں مصروف ہیں ہم اس وقت کو واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وزیرستان میں جاری دو گروپوں کے درمیان لڑائی سے پوری تحریک کا کوئی تعلق نہیں ہے صرف اس علاقے میں کچھ ساتھیوں کے درمیان بعض غلط فہمی کی وجہ سے تلخی پیدا ہوئی تھی جس کو TTP کے مرکزی شوری نے فور طور پر مداخلت کر کے حل کر دیا ، حکومت کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے مولانا فضل اللہ کے حکم سے مرکزی شوری جو معاملات طے کرتی ہے طالبان کے تمام حلقے اس کی پابند ی کرتی ہے TTP تمام پروپیگنڈوں کو مسترد کرتی ہے ہم شریعت اسلامی کی بالا دستی پر تقین رکھتے ہیں۔
جنگ نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…