تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے جیو نیوز کو نامعلوم مقام سے فون کر کے کہا ہے کہ میڈیا پر چلنے والے بعض عناصر تحریک طالبان کے درمیان معمولی تلخی کو بنیاد بنا کر پر وپیگنڈہ مہم میں مصروف ہیں ہم اس وقت کو واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وزیرستان میں جاری دو گروپوں کے درمیان لڑائی سے پوری تحریک کا کوئی تعلق نہیں ہے صرف اس علاقے میں کچھ ساتھیوں کے درمیان بعض غلط فہمی کی وجہ سے تلخی پیدا ہوئی تھی جس کو TTP کے مرکزی شوری نے فور طور پر مداخلت کر کے حل کر دیا ، حکومت کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے مولانا فضل اللہ کے حکم سے مرکزی شوری جو معاملات طے کرتی ہے طالبان کے تمام حلقے اس کی پابند ی کرتی ہے TTP تمام پروپیگنڈوں کو مسترد کرتی ہے ہم شریعت اسلامی کی بالا دستی پر تقین رکھتے ہیں۔
جنگ نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…