تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے جیو نیوز کو نامعلوم مقام سے فون کر کے کہا ہے کہ میڈیا پر چلنے والے بعض عناصر تحریک طالبان کے درمیان معمولی تلخی کو بنیاد بنا کر پر وپیگنڈہ مہم میں مصروف ہیں ہم اس وقت کو واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وزیرستان میں جاری دو گروپوں کے درمیان لڑائی سے پوری تحریک کا کوئی تعلق نہیں ہے صرف اس علاقے میں کچھ ساتھیوں کے درمیان بعض غلط فہمی کی وجہ سے تلخی پیدا ہوئی تھی جس کو TTP کے مرکزی شوری نے فور طور پر مداخلت کر کے حل کر دیا ، حکومت کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے مولانا فضل اللہ کے حکم سے مرکزی شوری جو معاملات طے کرتی ہے طالبان کے تمام حلقے اس کی پابند ی کرتی ہے TTP تمام پروپیگنڈوں کو مسترد کرتی ہے ہم شریعت اسلامی کی بالا دستی پر تقین رکھتے ہیں۔
جنگ نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید