دارالعلوم زاہدان کے لاپتہ طالب علم کی لاش مل گئی

زاہدان(سنی آن لائن)دارالعلوم زاہدان کے ہونہار طالب علم حامد ریگی (کبدانی) کی لاش سترہ دنوں کے بعد خاش شہر کے قریب سے برآمد ہوگئی ہے۔

ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ ’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق حامد ریگی دارالعلوم زاہدان میں درجہ رابعہ (چوتھی جماعت) کے طالب علم تھے جو دوسری سہ ماہی کے امتحانات کے بعد جامعہ سے نکل چکے تھے مگر گھر پہنچنے کے بجائے چند دنوں کے بعد خاش کے ایک پہاڑی علاقہ سے اس کی لاش برآمد ہوگئی۔

سنی آن لائن سے بات کرتے ہوئے مرحوم طالب علم کے بھائی اسماعیل ریکی (کبدانی) نے کہا: حامد نے تعطیلات سے ایک دن قبل ہمیں فون پر اطلاع دی تھی کہ وہ گھر آئے گا، لیکن اگلے دن جامعہ سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگئے، ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں ملا، موبائل فون بھی بند تھا اور جامعہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوتاہے وہ اکیلا جامعہ سے نکل چکاہے۔ یہ بیس مارچ کی بات ہے۔ سترہ دنوں کے بعد سات اپریل کو خاش کے قریب کے ایک چرواہا اس کی لاش کو دیکھتاہے اور پولیس اس کی لاش کو تحویل میں لیکر خاش کے ایک اسپتال کے مردہ خانہ میں لیجاتی ہے۔

شہید طالب علم کے بھائی نے مزیدکہا: یوں معلوم ہوتا ہے انہیں اغوا کے بعد شہید کیاگیا ہے، کئی دن گزرنے کے باوجود ان کی لاش قابل شناخت ہے۔ پوسٹ مارٹم کو ناکارآمد قرار دیاگیاہے لیکن زہریلے مواد کی شناخت کے لیے سیمپلنگ ہوگئی ہے جس کا رزلٹ دومہینے کے بعد آئے گا۔

اسماعیل ریکی نے ایرانی سکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا جلدازجلد اس واقعے کی تحقیق کریں اور حقائق سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا: سرحدی محافظوں کی رہائی کے بعد اہل سنت علما کے مثبت کردار کی وجہ سے سنی برادری کے مسائل کو میڈیا میں ہائی لائٹ کیا جاتاہے، لہذا حکام انتہائی سنجیدگی سے اس واقعے کی تحقیق کریں۔ میرے بھائی ایک انتہائی ملنسار اور نرم مزاج آدمی تھے جس کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی ہماری کوئی قبائلی لڑائی چل رہی ہے۔

حامدریکی کی نمازجنازہ جامع مسجد مکی کے احاطے میں کل نو اپریل کو نمازظہر کے بعد ادا کی گئی جہاں زاہدان اور آس پاس کے علاقوں سے بڑی تعداد میں علمائے کرام اور عوام نے شرکت کی۔

نمازجنازہ سے پہلے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے طالب علم حامد ریکی کے المناک قتل پر ان کے اہل خانہ، دارالعلوم کے طلبا و اساتذہ اور خاص کر ان کے چچا مولانا حافظ احمد کبدانی سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا جو شخص حصول علم کے راستے میں جان دیتاہے اللہ تعالی کے دربار میں اس کے درجات بلند ہوتے ہیں اور اسے ایک بڑی شان حاصل ہوتی ہے۔

مولانا عبدالحمید نے متعلقہ حکام سے درخواست کی اس واقعے کی مکمل تحقیق کریں اور ملزموں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹھہرے میں لائیں۔

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago