امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے شعبے کی طرف ایسی چیزوں کو ہٹایا گیا ہے جو لوگ اپنے ورثے کے طور پر اسلامی سمجھ کر جاری رکھے ہو ئے ہیں۔ حالانکہ اسلام پختہ قبروں اور گنبدوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے۔
اس سلسلے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کمیشن ، میونسپلٹی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو زینت نامی قبرستان کے معاملے کا جائزہ لے گی۔
شہریوں نے مذہبی پولیس پر الزام لگایا ہے کہ یہ ادارہ تین ہزار سالہ قدیمی اور تاریخی قبرستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بعض شہریوں کا موقف ہے کہ یہ قبرستان شہر کا ورثہ ہے، اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔
مورخ سعد الکاموخ کے مطابق اس قبرستان میں ایسے لوگ بھی دفن ہیں جن کے بارے میں گمان ہے کہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ کیونکہ اکثر قبروں کا رخ مشرق کی طرف ہے۔
بہت ساری قبریں اتنی قدیم ہیں ان کا رخ قبلہ اول بیت المقدس کی طرف ہے۔ بعض قبروں پر عربی کا قدیمی رسم الخط تحریر ثبت ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہر احمد قشاش نے کہا ” 1500 سے زائد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں بھی
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…