Categories: مشرق وسطی

شام میں مسیحی راہباؤں کی رہائی

شام میں یونانی قدامت پرست چرچ سےتعلق رکھنے والی راہباؤں کو باغیوں نے رہا کر دیا ہے جنہیں مولولہ میں ان کی خانقاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

ان راہباؤں کو لبنانی سرحد پر واقع قصبے ارسل میں لایا گیا جس کے بعد انھیں لبنانی حکام کے حوالے کیا گیا جنہوں نے اس کے بعد انہیں شامی حکام کے حوالے کردیا۔
راہباؤں نے بتایا کہ وہ تھکی ہوئی ہیں تاہم ان کے اغوا کاروں نے ان سے عمومی طور پر بہتر سلوک روا رکھا۔
ان راہباؤں کو قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا کیا گیا جس میں شامی حکومت نے 150 خواتین اور بچوں کو رہا کیا۔
اس معاہدے کے لیے لبنانی اور قطری حکام نے بات چیت کی اور ان کے شام پہنچنے پر ان کا استقبال دمشق کے گورنر حافظ مخلوف اور دوسرے مقامی حکام نے کیا۔
کہا جا رہا ہے کہ انھیں النصرہ فرنٹ کے حامیوں نے اغوا کیا تھا جو القاعدہ سے تعلق رکھنے والا گروہ ہے۔
راہبہ پیلگیا سیاف نے جو مارتکلہ کی خانقاہ کی سربراہ ہیں بتایا کہ ’خداوند نے ہمیں بچا لیا اور النصرہ فرنٹ والوں نے ہم سے اچھا سلوک کیا مگر ہم نے اپنی صلیبیں چھپا لی تھیں کیونکہ وہ ان کے پہننے کے لیے موزوں جگہ نہیں تھی۔‘
دسمبر میں مولولہ سے ان کو اغوا کرنے کے بعد اطلاعات ملیں کہ انھیں یبرود نامی قصبے میں منتقل کر دیا گیا جو لبنانی سرحد کے پاس واقع ہے۔
یاد رہے کہ اس قصبے پر باغیوں کا قبضہ تھا جنہیں اس علاقے سے نکالنے کے لیے شامی افواج اور لبنان کی حزب اللہ جنگجو کارروائی کر رہے ہیں۔
یونانی قدامت پسند چرچ کے بشپ لوکا الخوری نے کہا کہ ’جو شامی فوج کی کارروائی ہے اس کے نتیجے میں اس عمل میں سہولت ملی ہے۔‘
باغیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان خواتین کو حکومتی بمباری سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ انھیں شام کی عیسائی آبادی کو ڈرانے کی غرض سے اغوا کیا گیا تھا۔
بی بی سی کے جِم موئر کا بیروت سے کہنا ہے کہ قطر اور لبنانی حکام کے تعاون سے کئی مہینوں سے جاری رہنے والی بات چیت کے نتیجے میں یہ قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہوا۔
یبرود سے تعلق رکھنے والے دو باغی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ قطر نے ان راہباؤں کی رہائی کے لیے چالیس لاکھ ڈالر دینے کی پیشکش کی تھی مگر النٰصرہ فرنٹ نے پچاس کروڑ ڈالر اور قید بچوں اور خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
شامی میڈیا نے کسی قسم کے تبادلے یا رقم کی ادائیگی کا ذکر نہیں کیا۔
شامی مسیحی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر شام کی سیکولر حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو جہادیوں کی جانب سے مسیحی برادری کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز ہوں گی اور انھیں تباہ کرنے کی کوشش کی جائے گی جیسا کہ 2003 کے بعد عراق میں ہوا۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago