انتخابات سے محض ایک ماہ قبل شائع ہونے والے اس انٹرویو میں کرزئی نے کہا کہ “افغان ایک ایسی جنگ کے لئے ہلاک ہوئے کہ جو ان کی جنگ نہیں تھی”۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملے کے بعد شروع ہونے والی یہ 12 سالہ طویل جنگ امریکی تحفظ اور مغرب کے مفادات کے لئے تھی۔
کرزئی کے، واشنگٹن کے ساتھ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق کوئی سمجھوتہ طے نہ کرنے نے وائٹ ہاؤس کو بے چین کر دیا ہے اور صدر باراک اوباما نے پینٹاگون سے سال 2014 کے بعد مکمل انخلاء جیسے کسی امکان کے لئے تیار رہنے کے احکامات دئیے ہیں۔
اوباما نے منگل کے روز کرزئی کو فون کر کے پینٹاگون کو مکمل انخلاء کے احکامات دینے کے بارے میں مطلع کیا۔
یہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان جون کے مہینے سے لے کر اب تک پہلا براہ راست فیصلہ تھا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کو اپنے نتیجے تک پہنچنے کے لئے کھلا چھوڑا جائے گا۔
تاہم کرزئی نے کہا ہے کہ “ان کے لئے بہتر ہو گا کہ یہ معاہدہ میرے بعد آنے والوں کے ساتھ طے کریں”۔
واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں نیٹو کی فوج میں 33600 امریکی ٹروپ شامل ہیں۔
اتحادی فوج کے 3400 ٹروپس افغان طالبان کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے 2300 امریکی ٹروپ تھے۔
ٹی آر ٹی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…