Categories: پاکستان

لاپتہ بلوچوں کے لیے لانگ مارچ، شرکا اسلام آباد پہنچ گئے

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کے شرکا تقریباً 2500 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد جمعے کو وفاقی دارالحکومت پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد میں یہ افراد اقوام متحدہ کے دفتر جاکر اپنی معروضات اور مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کریں گے اور احتجاج کریں گے۔
اس لانگ مارچ میں نو خواتین ، تین بچے اور پانچ مرد شامل ہیں اور اس کی قیادت لاپتہ بلوچوں کے ورثا کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے رہنما قدیر بلوچ کر رہے ہیں۔
دو مراحل پر مشتمل مارچ کا آغاز گذشتہ برس 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے ہوا تھا اور اس کے شرکا 22 نومبر کو کراچی پہنچے تھے اور وہاں احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔
دوسرے مرحلے میں ان افراد نے 14 دسمبر کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنا سفر شروع کیا تھا اور 74 دن کے سفر کے بعد وہ جمعرات کو راولپنڈی پہنچے جہاں سے وہ دارالحکومت جائیں گے۔
راولپنڈی پہنچنے کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے لانگ مارچ کے روح و رواں ماما قدیر بلوچ نے بتایا تھا کہ اقوام متحدہ کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور وہ اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج کریں گے اور یادداشت پیش کریں گے کہ اقوامِ متحدہ بلوچستان میں جاری کارروائیاں بند کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان پر دباؤ ڈالے۔
اسی لانگ مارچ میں میٹرک کی طالبہ سمی بلوچ بھی شریک ہیں جن کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ چار برس سے لاپتہ ہیں۔
بی بی سی سے بات چیت میں سمی بلوچ کا کہنا تھا کہ ’چار برس سے میں اپنے والد کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ پر بیٹھی ہوں۔ میرے ابو کا کیس سپریم کورٹ، ہائی کورٹ میں گیا ہے، چشم دید گواہ پیش کیے گئے لیکن انھیں بازیاب نہیں کروایا جا سکا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پیروں میں چھالے پڑگئے لیکن ہمارے حوصلے بلند تھے اور ہم اپنے پیاروں کی تلاش میں آج یہاں تک آ چکے ہیں۔ ابھی تک ہمیں کوئی انصاف دلانے والا نہیں اور آگے دیکھتے ہیں کہ ہمیں انصاف ملے گا یا نہیں۔‘
خیال رہے کہ بلوچستان میں لوگوں کی جبراً گمشدگیوں کا سلسلہ 2002 میں شروع ہوا تھا جس کے بعد سے ایسے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔
صوبائی محکمۂ داخلہ ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بتاتا ہے جبکہ حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم ادارے اور بلوچ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد 1500 سے زیادہے۔
بلوچ تنظیمیں ان افراد کی گمشدگی کا ذمہ دار سکیورٹی اور خفیہ اداروں کو قرار دیتی ہیں تاہم حکام ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago