ان مذاکرات کے دوران پارلیمنٹ کیلیے توسیع لینے، نئی عبوری حکومت اور صدارتی انتخاب جلد کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
لیبیا کے قصبے زینتان سے تعلق رکھنے والی طاقتور ملیشیا نے لیبیا کی عبوری پارلیمنٹ کو پانچ گھنٹے کی مہلت دی تھی کہ وہ اپنے آپ کو اس مہلت کے دوران ختم کر دے۔ بصورت دیگر قانون سازوں کو اغوا کر لیا جائے گا۔
عسکری ملیشیا نے ٹی وی کے ذریعے کہا تھا ” ہم کانگریس کو انتباہ کر رہے ہیں کہ اس کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس لیے یہ اختیارات حوالے کر دے۔ ”
یہ بھی کہا گیا ” جو رکن کانگریس اپنے آپ کو پارلیمنٹ کیلیے دی گئی مہلت کے بعد بھی اس کا رکن کہے گا وہ ہمارا جائز طور پر نشانہ بنے گا اور اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔” عسکری ملیشیا نے اخوان المسلمون اور نظریاتی گروپوں کو مسئلے کی اصل جڑ قرار دیا ہے۔
اس عسکری ملیشیا نے القاعدہ اور ساواعق بریگیڈز کو بھی وارننگ جاری کی ہے جو کسی حد تک لیبیا کی افواج کے وفادار ہیں۔
بعد ازاں القاعدہ کے کمانڈر عثمان ملیکتا نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ” ہم جلد عمل کرتے ہوئے اختیارات سپریم کورٹ کے حوالے کر دیں گے اور ایک کمیٹی قائم کریں گے تاکہ وہ انتخابی معاملات کی نگرانی کر سکے۔”
طرابلس سے ”العربیہ” کے نمائندے نے بتایا ہے کہ ”بہت سارے وزراء ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اسے ایک زیر التوا بغاوت کا سامنا ہے۔
اس صوت حال میں اقوام متحدہ کے نمائندے کا عسکری ملیشیا کے ساتھ مذاکرات کرنے اور الٹی میٹم کو 72 گھنٹوں تک موخر کرنا ایک عارضی بہتری ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…