ان مذاکرات کے دوران پارلیمنٹ کیلیے توسیع لینے، نئی عبوری حکومت اور صدارتی انتخاب جلد کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
لیبیا کے قصبے زینتان سے تعلق رکھنے والی طاقتور ملیشیا نے لیبیا کی عبوری پارلیمنٹ کو پانچ گھنٹے کی مہلت دی تھی کہ وہ اپنے آپ کو اس مہلت کے دوران ختم کر دے۔ بصورت دیگر قانون سازوں کو اغوا کر لیا جائے گا۔
عسکری ملیشیا نے ٹی وی کے ذریعے کہا تھا ” ہم کانگریس کو انتباہ کر رہے ہیں کہ اس کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس لیے یہ اختیارات حوالے کر دے۔ ”
یہ بھی کہا گیا ” جو رکن کانگریس اپنے آپ کو پارلیمنٹ کیلیے دی گئی مہلت کے بعد بھی اس کا رکن کہے گا وہ ہمارا جائز طور پر نشانہ بنے گا اور اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔” عسکری ملیشیا نے اخوان المسلمون اور نظریاتی گروپوں کو مسئلے کی اصل جڑ قرار دیا ہے۔
اس عسکری ملیشیا نے القاعدہ اور ساواعق بریگیڈز کو بھی وارننگ جاری کی ہے جو کسی حد تک لیبیا کی افواج کے وفادار ہیں۔
بعد ازاں القاعدہ کے کمانڈر عثمان ملیکتا نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ” ہم جلد عمل کرتے ہوئے اختیارات سپریم کورٹ کے حوالے کر دیں گے اور ایک کمیٹی قائم کریں گے تاکہ وہ انتخابی معاملات کی نگرانی کر سکے۔”
طرابلس سے ”العربیہ” کے نمائندے نے بتایا ہے کہ ”بہت سارے وزراء ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اسے ایک زیر التوا بغاوت کا سامنا ہے۔
اس صوت حال میں اقوام متحدہ کے نمائندے کا عسکری ملیشیا کے ساتھ مذاکرات کرنے اور الٹی میٹم کو 72 گھنٹوں تک موخر کرنا ایک عارضی بہتری ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…