حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اکوڑہ خٹک میں طالبان مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی کمیٹی کے کو آرڈینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ 23 ایف سی اہلکاروں کے قتل کے واقعے کے بعد مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ان کا مزید کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات مذاکرات پر انتہائی منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ مذاکراتی ٹیم نے اتفاق رائے سے اس واقعے کو افسوس نا ک اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے اغوا کیے گئے 23 ایف سی اہل کاروں کو اتوار کوقتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل مشکل صورتحال سے دو چار ہے۔ پیر کو اکوڑہ خٹک میں طے شدہ کمیٹیوں کا اجلاس ملتوی ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی کمیٹی اعلیٰ قیادت کی جانب سے باقاعدہ ردعمل اور ہدایات کی منتظر ہے، جس سے طے ہوسکے گا کہ مذاکراتی عمل کو روکا جائے یا وضاحتیں طلب کی جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں پولیس بس پر حملے کے بعد حکومت پہلے ہی دباو کا شکار تھی اور ایف سی اہل کاروں کے قتل کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں حکومتی کمیٹی میں شامل ایک عہدیدار نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ شدت پسندوں کی نامزد کردہ ٹیم کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ پیر کو ہونے والی ملاقات ”اب نہیں ہوگی اور طالبان کمیٹی اور سیاسی شوریٰ سے وضاحتیں مانگی ہیں”۔”ہم نے ان سے وضاحت مانگی ہے کہ ہم تو بات کر رہے تھے فائر بندی کی اور اب یہ بات ہو گئی ہے تو ان حالات میں ملنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ”سرکاری اور طالبان کی تشکیل کردہ مذاکراتی ٹیم نے پیر کو ملنا تھا جس میں توقع کی جارہی تھی کہ حکومت کے فائر بندی کے مطالبے پر طالبان شوریٰ کے فیصلے سے سرکاری ٹیم کو آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم اتوار کو رات گئے کالعدم تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خراسانی نے بذریعہ ای میل ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے سکیورٹی اداروں کی تحویل میں موجود اپنے زیرِ حراست ساتھیوں کے قتل کے واقعات کے بعد بطورِ انتقام 23 ایف سی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان اہلکاروں کو طالبان نے 2010 میں یرغمال بنایا تھا۔ طالبان نے جمعہ کو کراچی میں پولیس وین پر حملے میں 13 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید ایسی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اکوڑہ خٹک میں طالبان کی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ حکومتی کمیٹی ارکان اجلاس کے لیے اکوڑہ خٹک آئے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کے واقعے پر مولانا سمیع الحق شدید پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کمیٹی کو بھی دوسرے شہریوں کے طرح اس واقع پر شدید دکھ ہے ۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…