Categories: افغانستان

افغان طالبان کے سابق وزیر ملاّ عبدالرقیب پشاور میں قتل

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں افغانستان کی سابق طالبان حکومت کے ایک وزیر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے۔ طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول ملاّ عبدالرقیب افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے حامی تھے۔

افغان طالبان کے ایک رکن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا ہے کہ ”موٹر سائیکل پر سوار مسلح حملہ آوروں نے ملاّ عبدالرقیب پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے”۔ اس وقت وہ ایک دینی مدرسے سے پڑھا کر نکلے تھے۔
ملا عبدالرقیب طالبان کی حکومت میں مہاجرین سے متعلق امور کے وزیر تھے۔ افغانستان سے طالبان کے ایک اور رکن نے بتایا ہے کہ مقتول اس گروپ میں شامل تھے جو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی تیاریوں اور روابط کے سلسلہ میں پشاور میں مقیم ہے۔
پشاور کے سینیر پولیس افسر محمد فیصل نے افغان طالبان کے سابق وزیر کے قتل کی تصدیق کی ہے۔افغانستان کے ایک اور سابق وزیر آغا جان معتصم نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے شہروں پشاور اور کوئٹہ میں افغان طالبان کے لیڈروں اور جہادی کمانڈروں کو چُن چُن کر قاتلانہ حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ”ملاّ عبدالرقیب پُرامن افغانستان کے لیے کام کررہے تھے۔وہ ایک اسکالر ،سیاست دان ،سماجی کارکن اور ہزاروں یتیموں کے سرپرست تھے”۔
واضح رہے کہ ان کے قتل سے چند ہفتے قبل کوئٹہ میں طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے ایک دست راست کو قتل کر دیا گیا تھا۔ پشاور اور کوئٹہ میں متعدد طالبان لیڈروں کو حملوں میں قتل کیا جا چکا ہے لیکن آج تک ان کے قتل کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔
اس واقعہ سے چار روز قبل افغان حکومت نے دارالحکومت کابل کے نواح میں واقع بگرام جیل سے ساٹھ سے زیادہ طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے جس پر صدر حامد کرزئی کو امریکا کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔
یادرہے کہ ہفتہ عشرہ قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ افغان صدر نے حالیہ مہینوں کے دوران طالبان مزاحمت کاروں سے کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے رابطے کیے ہیں لیکن انھوں نے اس عمل میں اپنے امریکی اور مغربی اتحادیوں کو اعتماد میں لیا ہے اور نہ شریک کیا ہے۔
حامد کرزئی امریکا کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں اور وہ امریکا کے زیر حراست طالبان لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے بعض امریکی اور افغان عہدے داروں کے حوالے سے لکھا تھا کہ صدر کرزئی کے طالبان مزاحمت کاروں سے خفیہ رابطوں پر امریکا نالاں ہے۔
افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے طالبان کے ساتھ ان خفیہ روابط کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ روابط جاری ہیں۔ اس ضمن میں گذشتہ دوماہ بہت مثبت رہے ہیں۔انھوں نے افغانستان میں اکتوبر 2001ء میں امریکا کی قیادت میں مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ان روابط کو سب سے سنجیدہ قرار دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

3 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago