افغان طالبان کے ایک رکن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا ہے کہ ”موٹر سائیکل پر سوار مسلح حملہ آوروں نے ملاّ عبدالرقیب پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے”۔ اس وقت وہ ایک دینی مدرسے سے پڑھا کر نکلے تھے۔
ملا عبدالرقیب طالبان کی حکومت میں مہاجرین سے متعلق امور کے وزیر تھے۔ افغانستان سے طالبان کے ایک اور رکن نے بتایا ہے کہ مقتول اس گروپ میں شامل تھے جو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی تیاریوں اور روابط کے سلسلہ میں پشاور میں مقیم ہے۔
پشاور کے سینیر پولیس افسر محمد فیصل نے افغان طالبان کے سابق وزیر کے قتل کی تصدیق کی ہے۔افغانستان کے ایک اور سابق وزیر آغا جان معتصم نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے شہروں پشاور اور کوئٹہ میں افغان طالبان کے لیڈروں اور جہادی کمانڈروں کو چُن چُن کر قاتلانہ حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ”ملاّ عبدالرقیب پُرامن افغانستان کے لیے کام کررہے تھے۔وہ ایک اسکالر ،سیاست دان ،سماجی کارکن اور ہزاروں یتیموں کے سرپرست تھے”۔
واضح رہے کہ ان کے قتل سے چند ہفتے قبل کوئٹہ میں طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے ایک دست راست کو قتل کر دیا گیا تھا۔ پشاور اور کوئٹہ میں متعدد طالبان لیڈروں کو حملوں میں قتل کیا جا چکا ہے لیکن آج تک ان کے قتل کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔
اس واقعہ سے چار روز قبل افغان حکومت نے دارالحکومت کابل کے نواح میں واقع بگرام جیل سے ساٹھ سے زیادہ طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے جس پر صدر حامد کرزئی کو امریکا کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔
یادرہے کہ ہفتہ عشرہ قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ افغان صدر نے حالیہ مہینوں کے دوران طالبان مزاحمت کاروں سے کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے رابطے کیے ہیں لیکن انھوں نے اس عمل میں اپنے امریکی اور مغربی اتحادیوں کو اعتماد میں لیا ہے اور نہ شریک کیا ہے۔
حامد کرزئی امریکا کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں اور وہ امریکا کے زیر حراست طالبان لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے بعض امریکی اور افغان عہدے داروں کے حوالے سے لکھا تھا کہ صدر کرزئی کے طالبان مزاحمت کاروں سے خفیہ رابطوں پر امریکا نالاں ہے۔
افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے طالبان کے ساتھ ان خفیہ روابط کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ روابط جاری ہیں۔ اس ضمن میں گذشتہ دوماہ بہت مثبت رہے ہیں۔انھوں نے افغانستان میں اکتوبر 2001ء میں امریکا کی قیادت میں مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ان روابط کو سب سے سنجیدہ قرار دیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…