راتوں رات بل کی منظوری لینے کے باعث ہونے والی لڑائی کے دوران کم از کم ایک رکن پارلیمنٹ کا چہرہ خون آلود ہو گیا۔ اس کے زخمی ہونے کی وجہ ناک پر لگنے والی چوٹ بنی ہے۔
واضح رہے ترک حکومت کو پچھلے چند ماہ سے مبینہ کرپشن الزامات کا سامنا ہے اور ان پراسیکیوشن سے متعلقہ شعبہ دیکھ رہا ہے۔ اس وجہ سے حکومت بیسیوں افسران کے تبادلے کر چکی ہے، جبکہ عدلیہ اور پراسیکیوشن کے اختیارات میں کمی بھی حکومت کا ہدف ہے۔
اپوزیشن کی سخت مخالفت کے باوجود پارلیمنٹ میں حکومت کا پیش کردہ بل زیر بحث لایا گیا تو اپوزیشن احتجاج شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔
عدلیہ کے بارے میں نئی قانون سازی کپشن الزامات کے حوالے سے بچاو کی ایر دوآن حکومت کی آخری کوشش تصور کی جا رہی ہے جو حکومت نے اپنے قانونی ماہرین سے طویل مشاورت کے بعد ایک بل کی صورت میں پیش کیا ہے۔
پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اس قانون پر صدر کے دستخطوں سے یہ منظور کردہ بل باضابطہ قانون بن جائے گا۔ امید ہے اس قانون کے نفاذ سے حکومت کرپشن کیسز سے نجات پا سکے گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…