ایک جریدے کو انٹرویو میں انہوں نے حکومت سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت مذاکرات کی بات کو وہ حکومت کی پیشگی شرط کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ وہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں، شریعت نافذ ہونے کی صورت میں ملاعمر ان کے امیرالمومنین اور ملا فضل اللہ خلیفہ ہوں گے، ملا فضل اللہ میں پاکستانی قوم کی قیادت کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے غیر اسلامی جمہوری نظام اور امریکا سے دوستی کی وجہ سے جنگ لڑ رہے ہیں، سوات میں زمین سے محروم ہونا طالبان کا مسئلہ نہیں، آج پوری تحریک طالبان سوات طالبان کے ہاتھوں میں ہے، اس طرح فوج کا سوات آپریشن بری طرح ناکام ہوا۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ حکومت سے بغیر شرط کے مذاکرات شروع کرنے کی بات ہوئی لیکن آئین کے تحت مذاکرات کی بات کرنے کو وہ حکومت کی پیشگی شرط کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ہونے والے بم دھماکوں میں طالبان ملوث نہیں، طالبان ترجمان نے کہا کہ انہوں نے پولیو ورکرز پر کبھی بھی حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، وہ اسلامی عسکریت پسند تنظیم ہیں تو دنیا بھر میں مسلمان ہمدرد رکھتے ہیں، ان کے پاس ہتھیار وہ ہیں جو انہوں نے حکومتی فورسز سے چھینے ہیں۔ شاہد اللہ شاہد نے کہاکہ پرویز مشرف سفاک ڈکٹیٹر تھا جس نے افغانستان پر حملے میں امریکا کی مدد کی، جبکہ اس کا ایک اور جرم لال مسجد آپریشن تھا، اگر اللہ نے موقع دیا تو مشرف کوشریعت کے مطابق سزا دیں گے۔ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی جنگ کیانی یا پاشا تک محدود نہیں، ان کی اصل دشمن پاکستانی فوج اور اس کے مرکزی کردار ہیں۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ مریم نواز ان کی ہٹ لسٹ پر نہیں، ہنگو کا اعتزاز حسن اور ملالہ یوسفزئی ان کے ہیرو نہیں۔ وہ عورتوں پر حملے نہیں کرتے لیکن ملالہ ایک علامت بن گئی تھی اس پر مجبوراً حملہ کیا۔ شاہد اللہ شاہد نے کہاکہ طالبان قبائلی علاقوں سے کراچی تک پھیل چکے ہیں، ان کی زیادہ موثر کارروائیاں سندھ اور پنجاب میں ہوئیں، وہ ملک میں ہر جگہ اپنا اثر رکھتے ہیں، اگر مذاکرات ناکام ہو کر آپریشن شروع ہوجائے تو اس کے بعد جو ہوگا اس پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہوگا۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ وہ ایک قوت ہیں اور ہر ایک ان کی طاقت سے آگاہ ہے، اس بات کو پہلے قبول کرلیا جاتا تو اتنا خون نہ بہتا، اب حکومت نے ان کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے جو ان کی کامیابی ہے۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…