Categories: پاکستان

پاکستان میں دوبارہ یکطرفہ امریکی کارروائی کا منصوبہ

اوباما انتظامیہ پاکستان میں چھپے مبینہ امریکی دہشت گرد کو نشانہ بنانے کے لئے فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے ‘امریکی دہشت گرد’ مبینہ طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپا ہے اور اوباما انتظامیہ سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ اس مبینہ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے لئے سی آئی اے کو باقاعدہ اجازت دیدی جائے۔ امریکی شہری کو ممکنہ طور پر ڈرون، فضائی حملے یا فوجی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا جاسکتا ہے، تاہم امریکی حکام نے اس مبینہ ٹارگٹ کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس مرحلے پر اس طرح کی کارروائی کی گئی تو حکومت پاکستان اور طالبان کے مابین جاری مذاکرات کا عمل ڈی ریل ہو سکتا ہے جس سے نہ صرف پاکستان میں بد امنی بڑھے گئی بلکہ اس سے افغانستان میں اتحادی افواج پر بھی حملوں میں تیزی آئے گی، اس طرح امریکا میں حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے مشتبہ شخص کی پاکستان میں موجودگی کو جواز بنا کر امریکا نے پاکستان میں ایک اور میزائل حملے کا منصوبہ بنا لیا۔ دوسری جانب اوبامہ انتظامیہ میں پاکستان میں مشتبہ امریکی شہری کو میزائل حملے سے نشانہ بنانے کی بحث جاری ہے۔ بحث میں حملے کے قانونی پہلو پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق میزائل حملے میں ہدف بنے والا امریکی شہری امریکا میں مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں اس حوالے سے سفارتی حلقوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر امریکہ کا یہ اقدام امن کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا اور باالخصوص ایسے مرحلے پر جب حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان ابتدائی مرحلوں میں رابطے ہوئے ہیں’ یہ اقدام کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں ہوگا اور اس سے امریکہ کیخلاف مزید نفرت بڑھے گی۔ سفارتی حلقوں کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس اگر امریکی دہشت گرد کی وہاں موجودگی کے کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اس معاملے کو حکومت پاکستان کے سامنے اٹھایا جائے اور کسی بھی طرح کی یکطرفہ کارروائی سے گریز کیا جائے۔ ادھر ایک اور امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا نے افغانستان سے فوجی انخلا کا منصوبہ ملتوی کر دیا۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکورٹی سمجھوتے پر دستخط کئے بغیر امریکی  فوج واپس نہیں جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے افغانستان سے فوجی انخلا کو فی الحال ملتوی کر دیا ہے، امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک افغان صدر حامد کرزئی اپنی مدت صدارت مکمل ہونے سے قبل مجوزہ امریکی سیکورٹی معاہدے پر دستخط نہ کر دیں اس وقت امریکا کو فوجی انخلا کے منصوبے پر عمل نہیں کرنا چاہئے، سیکورٹی معاہدے کے تحت امریکی فوجیوں کی ایک مخصوص تعداد فوجی انخلا کے بعد بھی افغانستان میں رہے گی، تاہم صدر کرزئی کی جانب سے ٹال مٹول کے بعد امریکی اعلیٰ فوجی اور سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

اردو ٹائمز

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago