یہ منصوبے مدینہ منورہ میں 2013ء کے دوران منعقدہ تقریبات کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز کا حصہ ہیں۔مدینہ منورہ کا گذشتہ سال کے لیے اسلامی ثقافتی مرکز کے طور پر انتخاب کیا گیا تھا اور اس حوالے سے پورا سال اسلامی ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
شہزادہ فیصل ہی ان تقریبات کی منتظمہ کمیٹی کے چئیرمین تھے۔ان کا کہنا ہے کہ قرآن گاہ سمیت ان منصوبوں سے مدینہ منورہ اسلامی ثقافت اور دعوت کا مرکز بن جائے گا۔قرآن گاہ مدینہ منورہ کے تاریخی ،ثقافتی ورثے کی شناخت کی بحالی کی جانب ایک اہم کوشش ہے۔
قبا ثقافتی مرکز شہر کی مذہبی ،ثقافتی اور سماجی شناخت کو اجاگر کرنے کا ایک اور منصوبہ ہے۔اس مرکز میں متعدد عجائب گھر ،تدریسی مراکز اور لائبریریاں قائم کی جائیں گی۔
تیسرا منصوبہ مدینہ خوش آمدید مرکز ہے جہاں عازمین حج وعمرہ ،زائرین اور سیاحوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔دوسرے منصوبوں میں شاہ عبدالعزیز لائبریری اور حرم لائبریری ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر استعمال اشیاء اور ان کے غزوات کی نمائش،قلمی نسخوں کا ثقافتی مرکز ،شاہ فہد باغ میں شہر کے ماضی کی نمائش،حجاز ریلوے اسٹیشن عجائب گھر ،مدینہ مرکز برائے مطالعات اور تحقیقات،ترجمہ مرکز اور مرکز برائے معاصر اسلامی فنون کی تعمیر شامل ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید