غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے 6 کار بم دھماکے ہوئے، جن میں سے سب سے ہولناک دھماکا جنوبی ضلع دشیر ایک بازار میں اس وقت ہوا جب لوگ اپنے معمول کے مطابق اشیائے صرف خریدنے میں مصروف تھے، دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک جبکہ 18 زخمی ہوئے، پولیس اور طبی اداروں نے دھماکوں کے نتیجے میں 24 افراد کی ہلکات جبکہ 50 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے، اسپتالوں میں ز زخمیوں میں سے بھی کئی کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ 2013 سے اب تک عراق میں فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات میں 10 ہزار افراد ہلاک اورہزاروں ہی زخمی ہوچکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…