انہوں نے اپنے بیان کا آغاز سورت الاحزاب کی آیت نمبر اکیس سے کرتے ہوئے کہا: ربیع الاول کا مہینہ مسلمانوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اس مبارک مہینے میں سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت واقع ہوگئی ہے۔ الحمدللہ ہم مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کے موقع پر آپﷺ کی سیرت مبارکہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں، ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہیں اور جذبہ عمل پیداکرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ آپﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہوجائیں اور صحیح رستے پر چل پڑیں۔
عیسائیوں کی تہواروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: عیسائی جو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیروی کے دعویدار ہیں ان کے میلاد کے موقع پر فحاشی اور رقص وشراب نوشی جیسے گناہوں سے تہوار مناتے ہیں۔ حالانکہ مقدس ہستیوں کی یاد کو گناہوں سے ملوث نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ کا فضل ہے اکثرمسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کو دعاوں اور تضرع سے تازہ کرتے ہیں جیسا کہ عیدین کے موقع پر دعا اور عبادات سے جشن مناتے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: آقائے دوجہاں کی شخصیت اس قدر اونچی ہے کہ قیامت کو تمام اقوام اور انبیائے کرام علیہم السلام ان کے جھنڈے تلے اکٹھے ہوجائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے شفاعت کریں گے۔ آپ ’شفاعت کبری‘ اور ’مقام محمود‘ کے مالک ہیں۔ آپﷺ کی شان میں ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا زبردست اشعار کہے ہیں؛ آپ اخلاق وسیرت اور صورت میں بے نظیر تھے۔ اللہ تعالی نے انہیں ہرعیب ونقص سے پاک پیدا فرمایا ۔ آپﷺ تمام پیغمبروں کے فخر وتاج ہیں۔ آپ کا جسم اطہر اس قدر خوشبو تھا کہ کوئی عطر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: آج کے لوگ اپنے قائدوں کو دیکھیں اور ان کی زندگی کو ہمارے نبی علیہ السلام کی سیرت سے موازنہ کریں؛ ان کے قائدکسی بھی عیب سے ملوث ہوسکتے ہیں لیکن ہمارے نبی ہر عیب سے پاک ومبرا تھے۔ کسی بھی شخص کی سیرت پوری طرح تاریخ میں محفوظ نہیں رہی ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت تمام زاویوں اور شعبوں کے ساتھ محفوظ اور دستیاب ہے۔ آپ کی سیرت کے بارے میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا، آپ نے جواب دیا: ”کان خلقہ القرآن“۔آپ کی پوری زندگی قرآن پاک کی تعلیمات پر مبنی تھی۔ آپﷺ قرآن پاک کے عملی نمونہ تھے۔
شیخ الاسلام نے زور دیتے ہوئے کہا: مسلمانوں کی کامیابی کا راز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنے میں ہے؛ اگر ہم دنیا وآخرت میں فلاح وکامیابی چاہتے ہیں تو آپ کی سنتوں پر عمل کرکے یہ خواہش پوری کرسکتے ہیں۔ آپ کی سیرت کو گہری نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے، سیرت کا ہر زاویہ دیکھنا چاہیے۔ آپ ہمیشہ خود کو ’عبداللہ‘ کہہ کر یاد فرماتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مبالغہ آرائی و افراط کو مردود قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاہے: میں اللہ کا بندہ وپیغمبر ہوں، مجھے عیسائیوں کی طرح اللہ کے مقام تک پہنچائیں۔ آپﷺ سیدالبشر اور امام الانبیا تھے؛ آپ کو سیرت ورسالت کے حوالے سے تعریف کرنا چاہیے لیکن اللہ کی مخصوص صفات میں کسی بھی نبی کو شریک نہیں کیاجاسکتا۔
سیرت سے ماخوذ ایک اہم سبق کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: سیرت کا ایک سبق حقوق الناس کا خیال رکھنا ہے، لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے خاص کر خواتین کے حقوق کا۔ بعض والدین اپنی بیٹیوں کی زبردستی شادی کراتے ہیں حالانکہ بچیاں ہرگز رضامندنہیں ہیں اور کثرت سے ہمیں شکایات موصول ہوتی ہیں۔ شریعت کی رو سے والدین کو ایسا کوئی حق نہیں کہ جہاں چاہیں بچیوں کا نکاح کرائیں، شادی کی نیت سے جب کوئی پیغام لائے تو بیٹیوں کی رائے لینی چاہیے، بیوہ خواتین منہ سے صراحت کے ساتھ جواب دیں اور کنواری خواتین کی رائے متبادل طریقوں سے معلوم کی جاسکتی ہے۔
معاشرہ انتہاپسند شیعہ وسنی عناصر کو مسترد کرے گا
خطاب کے دوسرے حصے میں خطیب اہل سنت زاہدان نے مسلم ممالک میں مذہبی انتہاپسندی کے رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد ویکجہتی کو وقت کی شدیدترین ضرورت قرار دیا۔
جمعہ دس جنوری دوہزارچودہ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر ’ہفتہ وحدت‘ منانے کو پرمعنی سمجھا۔ انہوں نے کہا: اس واقعے سے معلوم ہوتاہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلم امہ کے لیے اتحاد ویکجہتی کے باعث ہیں۔ آپﷺ کا وجودمبارک نہ صرف مسلمانوں بلکہ بہت سارے غیرمسلموں اور آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی اتحاد کا باعث رہاہے۔
ممتازسنی عالم دین نے مزیدکہا: سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسلام کے دشمنوں کے خلاف تلوار اٹھاتے اور تعدی کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجاتے جو کسی اور شخص کے لیے کسی حق کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد ان لوگوںکے خلاف تھا جو دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے اور انہیں اپنا غلام سمجھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے ظالم وجابر حکمرانوں کے خلاف علم جہاد بلند فرمایا لیکن تمام کفار سے لڑائی نہیں کی۔ حتی کہ آپ ﷺ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ بھی منعقد کیا۔ مسلمانوں اور بعض غیرمسلم عربوں کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ اسی لیے آپ ﷺانسانیت کے لیے امن، اتحاد، بھائی چارہ اور صلح کے پیغمبر تھے۔
مسلم امہ کے درمیان اتحاد ویگانگی کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: مسلمانوں کواتحاد کی جتنی ضرورت اس دور میں ہے شاید کسی اور دور میں تھی۔ اتحاد کوئی سیاسی یا عارضی مسئلہ نہیں ہے، اس کی جڑیں قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں ہیں؛ قرآن پاک کی سورت مائدہ آیت ایک سوتین میں اللہ تعالی نے اتحاد اور منتشر نہ ہونے کا حکم دیاہے۔ قرآن مجید صراحت کے ساتھ مسلمانوں کو اختلاف وانتشار سے منع کرتاہے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: اسلام دشمن عناصر کو مسلمانوں کی بیداری وہوشیاری سے خوف ہے۔ انہیں یہ دیکھ کر کہ مسلمان اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں اور اسلام لوگوں کی سماجی زندگی پر اثرانداز ہورہاہے، ہرگز قابل قبول نہیں اور وہ اس مسئلے پر انتہائی حساس ہوجاتے ہیں۔ وہ ہم مسلمانوں کو اندھیرے اورگمراہی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کی بیداری کی وجہ سے ان کے بہت سارے آلہ کار اور کٹھ پتلی حکمران برطرف ہوچکے ہیں۔اسی وجہ سے اسلام دشمن عناصر انتہائی پریشان ہیں۔
مولانا نے مزیدکہا: آج کل مسلم معاشرے اور ممالک اسلام دشمنوں کی سازشوں اور مکاریوں کی وجہ سے بے چینی کی حالت میں ہیں، ہمارے دشمن ہمیں آپس میں دست وگریبان کرکے اسلامی بیداری کی راہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان کامیاب و آزاد رہیں۔ مسلمانوں کے درمیان لسانی ومسلکی اور علاقائی اختلافات ڈالنا اسلام دشمنوں کی تدبیر ہے۔ لہذا ہمیں زیادہ سے زیادہ متحد ومتفق رہنا چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: مسلمانوں کو چاہیے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور دوسروں کے حقوق سے بھی دفاع کریں۔ جب ہم ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کریں تب بھائی چارہ اور پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ تمام مسلمان بشمول شیعہ وسنی کسی بھی سوچ کے ساتھ اپنے اختلافات کو بھلاکر بھائی چارہ کی راہ پر گامزن ہوجائیں، یہ ممکن نہیں مگر جب مسلمان ایک دوسرے کو برداشت کریں۔
مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے سوال اٹھایا: کیوں مسلمان مغربی ممالک اور روس جیسے طاقتوں کو اجازت دیتے ہیں کہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں؟ مسلم علمائے کرام، سیاستدان، دانشور اور حکام کیوں اپنے اختلافات اور شام، مصر اورعراق کے مسائل خود حل نہیں کرسکتے؟ آج مسلمان ایک دوسرے سے الگ ہوچکے ہیں اور آپس کے تعلقات نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی عزت اور مفادات اتحاد واتفاق سے یقینی ہوسکتے ہیں۔
اپنے بیان کے ایک حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان کے شیعہ وسنی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: برداشت اور بھائی چارہ سے اپنے صوبے کو آباد کریں؛ آپ کی برادری اسلامی بھی ہے اور قومی بھی۔ جب شیعہ وسنی کے قابل افراد شانہ بہ شانہ اپنے صوبہ اور ملک کے فیصلہ سازاداروں اور محکموں میں کام کریں گے تو کوئی بھی قوت ان کی وحدت کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
ایرانی اہل سنت کے سرکردہ رہ نما نے گزشتہ دنوں صدرروحانی کے خطاب کو گورنرز کے جلسے میں ’بہت مثبت اور تاریخی‘ یاد کرتے ہوئے کہا: نئے معروضی حالات کے پیش نظر جب معاشرہ اعتدال ومیانہ روی کی جانب گامزن ہے، صدرمملکت اور ان کی ٹیم اعتدال پسندی پر یقین رکھتی ہے اور عوام نے بھی اسی لیے انہیں ووٹ دے کر منتخب کرایا، ضروت اس بات کی ہے کہ تمام مذاہب وقومیتوں کے افراد جو افراط کی راہ پر جاچکے ہیں، اعتدال کی طرف واپس لوٹ آئیں۔ ورنہ معاشرہ انہیں مسترد کرے گا۔ اسلام صرف اعتدال ومیانہ روی پر یقین رکھتاہے اور انتہاپسندی کے خلاف ہے۔
انہوں نے امید ظاہرکی کہ نئی حکومت کی پالیسیوں کی بدولت تمام مسالک اورلسانی گروہوں کے لوگ اپنے ملک کی خدمت کا موقع حاصل کرسکیں جس سے پوری قوم درست رستے پر چل پڑے گی۔ اسی سے ہماری قوم دیگر اقوام کے لیے نمونہ اور آئیڈیل بن جائے گی اور ملک کی ترقی اور پائیدارامن کا راز بھی اسی میں ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…