ان کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کی حکومت نے صوبے میں فوج کے ذریعے قیام امن کی جو کوشش کی ہے اس نے عام شہریوں کی مشکلات دو چند کر دی ہیں۔ میں وزیر اعظم نوری المالکی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صوبے میں تعینات فوج فوری واپس بلائیں اور عوام کی بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔
العربیہ ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں مسعود بارزانی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو فرقہ ورانہ فسادات میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت نے جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس سے فرقہ واریت میں مزید اضافہ ہوگا۔ شیعہ اور سنی کے درمیان جنگ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
درایں اثناء صوبہ الانبار میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم دولتِ عراق و شام [داعش] اور مقامی قبائل کے درمیان لڑائی تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے۔ سرکاری فوج نے بھی صوبے کے دو بڑے شہروں فلوجہ اور الرمادی کا محاصرہ کرکے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر وحشیانہ بم باری کی ہے۔
فلوجہ شہر میں جاری لڑائی کی تصاویر اور خبریں میڈیا کی شہ سرخیاں بن رہی۔ میڈیا میں آنے والی تصاویر میں قبائلی کارکنوں اور “داعش” کے جنگجوؤں کے مابین خونریز لڑائی دیکھتی جا سکتی ہے۔ فوج نے بھی ٹینکوں کے ساتھ شہر کا چاروں اطراف سے محاصرہ کرکے بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے۔
العربیہ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…