ان کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کی حکومت نے صوبے میں فوج کے ذریعے قیام امن کی جو کوشش کی ہے اس نے عام شہریوں کی مشکلات دو چند کر دی ہیں۔ میں وزیر اعظم نوری المالکی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صوبے میں تعینات فوج فوری واپس بلائیں اور عوام کی بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔
العربیہ ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں مسعود بارزانی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو فرقہ ورانہ فسادات میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت نے جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس سے فرقہ واریت میں مزید اضافہ ہوگا۔ شیعہ اور سنی کے درمیان جنگ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
درایں اثناء صوبہ الانبار میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم دولتِ عراق و شام [داعش] اور مقامی قبائل کے درمیان لڑائی تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے۔ سرکاری فوج نے بھی صوبے کے دو بڑے شہروں فلوجہ اور الرمادی کا محاصرہ کرکے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر وحشیانہ بم باری کی ہے۔
فلوجہ شہر میں جاری لڑائی کی تصاویر اور خبریں میڈیا کی شہ سرخیاں بن رہی۔ میڈیا میں آنے والی تصاویر میں قبائلی کارکنوں اور “داعش” کے جنگجوؤں کے مابین خونریز لڑائی دیکھتی جا سکتی ہے۔ فوج نے بھی ٹینکوں کے ساتھ شہر کا چاروں اطراف سے محاصرہ کرکے بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے۔
العربیہ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار