خطیب اہل سنت زاہدان نے تین جنوری دوہزارچودہ کے خطبے کا آغاز قرآنی آیات مبارکہ: «وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا *إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُواْ إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا» [إسراء: 26-27]، (اور قرابت دار کو اس کا حق (مالی و غیر مالی) دیتے رہنا اور محتاج اور مسافر کو بھی دیتے رہنا اور (مال کو) بے موقع مت اڑانا (کیوں کہ)۔ بے شک بےموقع اڑانے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکر ہے۔) کی تلاوت کیا۔
انہوں نے کہا: کتاب وسنت میں اسراف کی برائی واضح کرنے کے لیے بہت تاکید آئی ہے۔ قرآن پاک نے اسراف کرنے والوں کو شیطانوں کے بھائی یاد کیاہے۔ اس کامطلب ہے اسراف و فضول خرچی ایک قسم کی ناسپاسی و ناشکری ہے جس طرح کہ شیطان نے کفران نعمت کیا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے جو شخص اسراف کا مرتکب ہوتاہے دراصل وہ اپنی عقل کا صحیح استعمال نہیں کرتا اور اللہ تعالی کی نافرمانی کرتاہے۔ شیطان نے بھی اپنی عقل کا درست استعمال نہیں کیا اور اللہ سے بغاوت کا مرتکب ہوا۔ اسراف کرنا عقل کے تقاضوں کے خلاف اقدام اٹھانا ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: افسوس کا مقام ہے کہ آج کل لوگ زندگی کے مختلف شعبوں میں اسراف کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ گھر تشریف لائے تو گھر میں دو چراغ چالو تھے؛ آپ نے حکم دیا ایک ہی چراغ جلنے دیاجائے اور دوسرے کو بجھایاجائے۔ اسراف ہر جگہ اور ہرحال میں مذموم اور ناپسندیدہ کام ہے۔
پانی، بجلی اور گیس کے استعمال میں اسراف کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: پانی اور بجلی جیسی سہولیات کے استعمال میں بھی اسراف کا مظاہرہ ہوتاہے؛ بل کی ادائیگی میں بھاری رقمیں ادا کرنے کے باوجود ہم ان نعمتوں کے استعمال میں میانہ روی کا خیال نہیں رکھتے۔ افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ تجربے سے ثابت ہواہے ایرانی قوم دیگر اقوام سے زیادہ اسراف کا مرتکب ہوتی ہے۔ اسراف ایک خطرناک بیماری ہے جس سے پرہیز ضروری ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اسراف کی وجہ سے غربت اور فاقہ جیسے مسائل لوگوں کو آ گھیرلیتے ہیں۔ اسراف کی بدترین نوع گناہ ومعاصی پر پیسہ لگانا ہے۔ جب کوئی بندہ اپنی آمدنی سگریٹ نوشی اور شراب نوشی جیسے گناہوں پر لگاتاہے تو یہ اسراف کی بدترین قسم ہے۔ سائنسی تحقیقات اور شرعی نصوص کی رو سے سگریٹ نوشی جسم کے لیے مضرہے اور اس کا استعمال ناجائز ہے۔ قرآن پاک نے جوا اور شراب کو مضر اور گناہ قرار دیاہے۔ سگریٹ بھی ایسی چیزوں کے زمرے میں آتی ہے جو انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ’میانہ روی واقتصاد‘ کو کسی بھی معاشرے کی کامیابی کا راز قرار دیتے ہوئے کہا: ’اقتصاد‘ ایک اسلامی تعبیر ہے جس کا مطلب ہے میانہ روی و اعتدال؛ یعنی انسان اسراف وفضول خرچی نیز بخل وحرص دونوں سے اجتناب کرے۔ اسلام کا حکم ہے صدقہ دینے میںبھی زیادہ روی نہ کی جائے؛ اہل وعیال کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اہل خانہ کسی شخص کی آمدنی سے محروم رہ جائیں۔ اسلامی تعلمیات کی رو سے پیسہ اتنا خرچ کیا جائے جتنی آمدنی ہے؛ ورنہ بندہ مقروض ہوجائے گا اور اسراف کی صورت میں کئی مشکلات کا شکار ہوجائے گا۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں ’پوشاک و لباس اور گھر کے سامان‘ میں اسراف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام حاضرین کو اسراف وفضول خرچی سے پرہیز کی ترغیب دی اور زندگی کے ہر لمحے میں میانہ روی پر پابند رہنے کا مشورہ دیا۔
سیاسی اختلافات کو صدراسلام کے مشاجرات سے تشبیہ نہ دی جائے
اپنے خطاب کے دوسرے حصے میںمولانا عبدالحمید نے تیس دسمبر کو حکومت کے دائیں بازو کے حامیوں کے مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بعض سرکاری خطیبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے جنگ جمل کو دوہزارنو کے متنازعہ صدارتی انتخابات سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے ایسے اقدامات کو عقل، میانہ روی اور بصیرت کے خلاف قرار دیا۔
زاہدان میں گفتگو کرتے ہوئے خطبہ جمعہ کے دوران انہوں نے کہا: گزشتہ ہفتہ میں ’بصیرت‘ کے عنوان سے ملک کے طول وعرض میں جلسے منعقد کرائے گئے۔ ان جلسوں میں بعض مقررین نے ایسی باتیں کہیں جو میرے اندازے کے مطابق بصیرت ہی میں وہ افراط کا شکار ہوچکے ہیں۔ حالانکہ بصیرت کا مطلب ہے بیداری وہوشیاری، میانہ روی واعتدال اور افراط وتفریط سے گریز کرنا۔ بعض لوگ اس قدر اپنے مخالفین پر برستے ہیں جو افراط اور انتہاپسندی کے زمرے میں آتاہے۔
تہران کے شیعہ سرکاری خطیب کے ایک بیان پر تنقید کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: گزشتہ جمعے کو تہران کے ایک خطیب نے دوہزارنو کے صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہونے والی چپقلش اور سیاسی کشیدگی کو جنگ جمل سے تشبیہ دی تھی؛ جنگ جمل صدراسلام میں یہودیوں اور اسلام کے دشمنوں کی سازش کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان پیش آئی تھی۔اس خطیب نے ام المومنین عایشہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی لیا تھا۔ یہ اس حال میں ہوا جب ان دونوں واقعات میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔
ام المومنین سیدہ عایشہ رضی اللہ عنہا کے بعض فضائل ومناقب پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: قرآن پاک کی صریح نص کی رو سے امی عایشہ سمیت تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ کوئی بھی حقیقی مسلمان اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ حضرت عایشہ رضی اللہ عنہا اس کی ماں نہیں ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: ایسی تشبیہات کا استعمال عقل سلیم اور اعتدال کے خلاف ہے اور ایسے لوگ افراط کی راہ پر چلنے والے ہیں۔ مرشداعلی نے بھی فتویٰ دیتے ہوئے ازواج مطہرات، صحابہ کرام اور اہل سنت سمیت تمام مسلم فرقوں کی مقدسات کی شان میں گستاخی کو حرام قرار دیاہے۔ لہذا تمام لوگوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ ایسے مسائل کا خیال رکھیں، ان کا تعلق کسی بھی سیاسی گروہ یا بازو سے ہو۔ سب کو چاہیے اپنے اختلافات کو صدراسلام میں رونما ہونے والے اختلافات ومشاجرات سے تشبیہ نہ دیں۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: جس قدر عالم اسلام کو ان دنوں میں اتحاد ویگانگی اور آرام کی ضرورت ہے، شاید کبھی اتنی ضرورت نہ تھی۔ تمام خطبائ، لکھاری اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران اپنی باتوں کا خیال رکھیںاور فرقہ واریت کو ہوا دینے سے گریز کریں۔ سب کو اتحاد کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے تمام سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ہمارا تعلق کسی بھی خاص جماعت یا گروہ سے نہیں ہے، ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں۔ لہذا اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں سمیت تمام سیاسی گروہوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ اپنے سیاسی تنازعات کو چھوڑکر اسلام اور اپنے ملک کی ترقی کیلیے محنت کریں۔ عقل ومنطق اور قانون کے دائرے میں اپنے مسائل حل کرائیں۔ ہم سب کو قانون کا تابعدار ہونا چاہیے اور ایسے حالات میں بھائی چارہ اور اخوت کو مت بھولیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…