Categories: مشرق وسطی

فلوجہ: کچھ حصےاب بھی’اسلامی ریاست‘ کےپاس

عراق کے صوبہ انبار میں دو شہروں کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے خصوصی فوجی دستوں کی جہادی عسکریت پسندوں سے شدید لڑائی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں شہروں کے زیادہ تر حصوں پر اب بھی عسکریت پسندوں کا قبضہ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں شہروں میں جہادی عسکریت پسندوں کے جھنڈے لہرا رہے ہیں اور انھوں نے علاقے میں چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں۔
فلوجہ اور رمادی کے بڑے حصوں پر القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند جن کا تعلق عراق اور لیونٹ میں اسلامک امارات سے ہے قابض ہو گئے ہیں۔
یہ دونوں شہر صوبہ انبار میں ہیں جہاں سنی عسکریت پسندوں کی کارروائیاں اپنے عروج پر ہیں۔
دریں اثنا مقامی حکام کے مطابق بلادروز کے شہر میں ایک خودکش کار بم حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
بغداد سے 73 کلومیٹر شمال میں واقع اس شہر میں ایک گاڑیوں کے شوروم کے باہر ہوا۔
انبار کے صوبے میں ایک مقامی اہلکار کے مطابق عسکریت پسندوں نے کم از کم 10 پولیس سٹیشنوں پر قبضہ کرکے کے متعدد قیدیوں کو رہا کرا لیا ہے۔
آئی ایس آئی ایس کے عسکریت پسندوں نے انٹرنیٹ پر اپنی ویڈیو جاری کی ہیں جن میں انھیں چوکیاں قائم کرتے دکھایا گیا ہے اور ان فلموں میں وہ نور المالکی کی حکومت کو چیلنج کرتے نظر آئے۔
سنی مسلح قبائل کے ارکان بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ حکومتی فوج سے تعاون کر رہے ہیں۔
جمعرات کو حکام نے ایک شیعہ رہنما کو بھی گرفتار کیا ہے جس کا بظاہر مقصد سنی فرقے کے لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنا تھا۔
گرفتار کیے جانے والے شیعہ رہنما نو تشکیل کردہ مختار فوج کے کمانڈر ہیں اور مبینہ طور پر گذشتہ ہفتے کے راکٹ حملے میں ملوث ہیں۔
گذشتہ سوموار کو انبار صوبے میں اس وقت کشدیگی بڑھ گئی تھی جب پولیس نے ایک سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ اسی دوران ایک سنی رہنما کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔
سنی عرب کا کہنا ہے کہ نور المالکی کی شیعہ حکومت ان سے امتیازی سلوکر رہی ہے اور انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سوموار کو ایک کمپ کے خلاف کارروائی میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق سنہ دو ہزار تیرہ عراق میں گذشتہ پانچ برس میں سب سے زیادہ خونی سال تھا اور اس برس سات ہزار آٹھ سو اٹھارہ شہری اور ایک ہزار پچاس سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago