Categories: عالم اسلام

جنوبی سوڈان میں ہزاروں افراد مارے گئے: اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ کار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ ہفتے جنوبی سوڈان میں تشدد کے واقعات میں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔

ٹوبی لینزر جنوبی سوڈان کی شمالی ریاست یونٹی میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ جنوبی سوڈان کے لیے تباہ کن ہفتہ رہا ہے۔‘
منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کیا کہ جنوبی سوڈان میں امن دستوں کی تعداد تقریباً دگنی کر کے ساڑھے 12 ہزار کر دی جائے۔
اس سے قبل جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیئر نے کہا تھا کہ ان کی فوج نے اہم شہر بور کو باغیوں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے۔
باغیوں کے سربراہ رییک ماچر ہیں، جن کا تعلق نوئر قبیلے سے ہے۔ وہ دنکا قبیلے سے تعلق رکھنے والے صدر کیئر سے نبرد آزما ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے منگل کو یہ بھی کہا کہ اسے کم از کم تین بڑی اجتماعی قبروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
لینزر نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے خیال سے اب یہ بات بلا تردید کہی جا سکتی ہے کہ ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
’جب ہم نے اہم قصبوں کے ہسپتالوں میں دیکھا، اور میں نے خود دارالحکومت کے ہسپتالوں میں زخموں کی نوعیت دیکھی، تو یہ ایسی صورتِ حال نہیں ہے جس میں کہا جا سکے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔‘
لینزر نے کہا کہ لڑائی سے بھاگ کے پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد ’دسیوں ہزار یا شاید لاکھوں میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی کا اندازہ اقوامِ متحدہ کے ایک کیمپ سے لگایا جا سکتا ہے جہاں ساڑھے سات ہزار افراد نے پناہ لے رکھی ہے:
’ہم صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے کیمپ کے اندر مختلف سربراہوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور میں نے انھیں کہا کہ عورتوں اور بچوں کی خاطر جہاں تک ممکن ہو حالات کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔‘
اقوامِ متحدہ کے کمیشنر برائے انسانی حقوق نوین پلے نے کہا: ’دنکا اور نوئر قبیلوں کے افراد میں واضح خوف پایا جاتا ہے کہ انھیں ان کی نسل کی بنیاد پر قتل کر دیا جائے گا۔‘
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کم از کم 80 ہزار افراد اس کشیدگی کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل صدر کیئر نے جوبا شہر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج نے ’بور شہر کو باغیوں سے چھڑا لیا ہے اور اب وہ بچے کھچے دشمنوں کا صفایا کر رہی ہے۔‘
صدر کیئر اور باغیوں کے سربراہ ماچر دونوں نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے رضامند ہیں۔ تاہم ماچر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل ان کے سیاسی حلیفوں کو رہا کیا جائے، جب کہ کیئر کسی قسم کی پیشگی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
منگل کے روز اقوامِ متحدہ کے صدر بان کی مون نے کہا تھا کہ ’اس تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ یہ سیاسی بحران ہے جس کا پرامن اور سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔‘
2011 میں آزادی پانے سے قبل سوڈان 22 سال تک خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا تھا، جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

4 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago