حال ہی میں سماجی میڈیا پر ایک ویڈیو فوٹیج میں ریاض میں منعقدہ دعوتی کیمپ میں تیس افراد کو الحارثی کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوتے دکھایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سعد الحارثی نے حال ہی میں فٹ بال کو خیرباد کہہ کر مذہبی حلیہ اپنا لیا تھا۔ اس نے داڑھی رکھ لی اور تحفیظ القرآن کے پروگرامات میں شرکت شروع کر دی تھی۔
میڈ رپورٹس کے مطابق فٹ بال کو خیرباد کہنے والے سعد الحارثی کا کہنا ہے جب سے انہوں نے کھیل کا کام چھوڑ کر دین کی تبلیغ شروع کی ہے ان کا اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط ہو گیا ہے۔ ان کے بہ قول میری زندگی میں تبدیلی کی بنیادی وجہ تعلق باللہ کی مضبوطی ہے۔
سعد کے مطابق کھیل کا رجحان دنیاوی امور ہیں جن کا مسلمان کی کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کھیل چھوڑنے کے بعد اللہ سے لو لگا لی ہے۔ میں نے اس دوران جو تبدیلی محسوس کی وہ اللہ کی قربت ہے۔ میں اسے اللہ کا ایک احسان عظیم سمجھتا ہوں۔ اللہ سے میرا تعلق دن بہ دن مضبوط ہو رہا ہے۔ اللہ مجھے اس میں ثابت قدم رکھے۔
العربیہ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید