اسے تدریس کے لیے مدرس بننے میں بھی کوئي حرج نہیں چاہے وہ گھر میں تدریس کا کام کرے یا پھر لڑکیوں کے سکول میں ۔
عورت کے لیے میڈیکل اورطب کی تعلیم حاصل کرنی بھی جائز ہے بلکہ خاص کرعورتوں کے امراض کے علاج کے لیے اسے لیڈی ڈاکٹر بننا بھی جائز ہے یا پھر وہ عورتوں کے لیے نرس بھی بن سکتی ہے تا کہ عورتیں مرد ڈاکٹروں کے پاس جانے پر مجبور نہ ہوں ۔
عورت کسی دوسرے کی طرف سے کسی بھی معاملہ میں وکیل بھی بن سکتی ہے ، تواس بنا پر وہ وکیل کا پیشہ بھی اختیار کرسکتی ہے اس لیے کہ وکیل کا کام مقدمات میں اپنے موکل کی پیروی کرنا ہے جوکہ عورت کے لیےبھی جائز ہے ۔
لیکن دور حاضرمیں وکالت کا پیشہ ایک غیر سلیم اورغلط راہ اختیار کر چکا ہے ،( جس میں جھوٹ سب سے زيادہ بولا جاتا ہے ) اوراس کے ساتھ ساتھ وکیل کا اپنے موکل کےمخالف کے ساتھ اختلاط اورججوں کے ساتھ میٹنگ بھی کرنا ہوتی ہے اورعورت کوان سب چيزوں کی ممانعت ہے الا یہ کہ وہ سب بھی عورتیں ہی ہوں ۔
لھذا اس وجہ سے جب تک یہ صورت اورحالت ہوعورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ وکالت کا پیشہ اختیار کرے اوروکیل بنے ۔
دیکھیں : ولایۃ المراۃ فی الفقہ الاسلامی ص ( 690 )
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام