Categories: اسلام

اللہ تعالی کےنام ” الحسیب ” کامعنی

الحسیب ، کفایت کرنے والے کوکہتے ہیں ، وہ توکل کرنے والوں کو کافی ہے ، اور وہ گواہوں سے کافی ہے ۔

فرمان باری تعالی ہے :
{ بے شک اللہ تعالی ہرچیز ہرکا حساب لینے والا ہے } النساء ( 86 )
اور الحسیب کی تفسیر الحفیظ کے ساتھ بھی کی گئ ہے ، کہ وہ اعمال کی حفاظت کرکے اس کا بدلہ دے گا ، تواللہ تعالی اپنے بندوں کے لۓ حسیب یعنی ان کے اعمال کا محاسبہ کرکے انہیں ان اعمال کا بدلہ عطافرماۓ گا ، تو اللہ تعالی اپنی حکمت اورعلم کے اعتبارسے ان کے چھوٹے اور بڑے اعمال پر انہیں جزا دے گا ، توان کا برائ اوربھلائ میں حساب ہوگا اگرچہ وہ ذرہ برابر ہی کیوں نہ ہو۔
اور اللہ تعالی کافی ہے ، اوراللہ تعالی کی یہ کفایت دو قسم کی ہے ، کفایت عامہ اور کفایت خاصہ ۔

کفایت عامہ :
یہ کفایت اللہ تعالی کے سب بندوں کوشامل ہے جوبھی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات میں حصول نفع اور نقصان سے بچنے کے لۓ انہیں ضرورت ہو ۔

کفایت خاصہ :
یہ کفایت اللہ تعالی کے اس بندے کے ساتھ خاص ہے جوکہ متقی اورپرہیزگار اور اس پر توکل کرنے والا ہو ، یہ ایسی کفایت ہے جوکہ اس کے دین ودنیا کے لۓ درست ہو ، اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :
{ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کو اللہ تعالی کافی ہے اور ان مومنوں کوبھی جوکہ آپ کی اتباع کررہے ہیں } الانفال ( 64 )
یعنی اللہ تعالی آپ کواور آپ کے متبعین کوبھی کافی ہے ، اور اللہ تعالی اپنے بندے کی وہ اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ وہ ظاہری یا باطنی طریقے سے کر رہا ہو اسے محفوظ کررہا ہے ، اور پھر بندہ اللہ تعالی کی عبودیت کرتا ہے تو اس میں اس کے لۓ کفایت اور اس کی نصرت و عزت ہے ، تواکیلا اللہ سبحانہ و تعالی اپنے بندے کوکافی ہے ، اس لۓ کہ کفایت اور حسب یہ صرف اللہ تعالی کے لۓ ہی ہے جس طرح کہ توکل اور عبادت اورتقوی صرف اللہ تعالی کے لۓ ہے ، جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ کیااللہ تعالی اپنے بندے کوکافی نہیں ہے } الزمر ( 36 )
اوراللہ تبارک وتعالی سب حساب کرنے والوں میں سے زیادہ جلد حساب لینے والے ہيں تو جب سب بندے اللہ تعالی کی طرف لوٹاۓ جا‏‏‏ئيں گے تو ان کے حساب لینے میں اسے کوئ مشقت نہیں ہوگی ، کیونکہ اللہ تعالی ان کی تعداد اور ان کے اعمال اور ان کی عمروں اور سب کے سب معاملا ت کوجاننے والا ہے ، اور اللہ تبارک وتعالی نے اسے شمار کررکھا اوراس کی تقادیر اوران کے پہنچنےکی جگہ اس کے علم میں ہے ۔
اوراللہ تبارک وتعالی ھاتھ کے ساتھ نہیں گنتا لیکن اسے اس کا علم ہے اور اس پر کوئ بھی مخفی رہنے والی چيز بھی مخفی نہیں رہ سکتی ، اورنہ ہی اس سے ذرہ برابر اور نہ ہی اس سے چھوٹی اور نہ بڑي چيز غائب ہو سکتی ہے مگروہ تو کتاب مبین میں لکھی جاچکی ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :
اوروہ اللہ تعالی کفایت وحمایت کے اعتبارسے کافی ہے ، اور اللہ تعالی بندے کو ہروقت کافی ہے ۔
ڈاکٹر حصہ الصغیر کی کتاب شرح الاسماء اللہ تعالی الحسنی سے لیا گیا ہے

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

5 hours ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

5 hours ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

1 week ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

2 weeks ago

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

2 weeks ago

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

2 weeks ago