غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق عبدالقادر ملا کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی دی جانی تھی۔ بنگلہ دیش کی عدالت نے عبدالقادر ملا کو 8 دسمبر کو پھانسی کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ عبدالقادر کو منگل کی رات 12 بجکر ایک منٹ پر تختہ دار پر لٹکایا جانا تھا تاہم 90 منٹ قبل سزا پر عملدرآمد روکدیا گیا۔ قادر کے وکیل ششیر منیر نے بتایا سپریم کورٹ کے چیمبر جج نے آج بدھ صبح 10:30بجے تک سزا پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔ یاد رہے چند روز قبل نام نہاد ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو 1971ء کو جنگ میں پاکستان کی حمایت اور سینکڑوں افراد کے قتل کے الزام میں پھانسی دینے کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی عدالت نے عبدالقادر ملا کو عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے حکومت کی اپیل پر عبدالقادر ملا کی عمر قید کی سزا کو موت کی سزا میں بدل دیا تھا۔ منگل کے روز بنگلہ دیشی حکام نے عبدالقادر ملا کے خاندان کو ان سے آخری ملاقات کرائی تھی۔ عبدالقادر ملا کے وکیل نے کہا تھا ک حکومت ان کے موکل کو پھانسی کی سزا دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے موکل نے موت کی سزا کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نگرانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ وکیل دفاع تجل اسلام کا کہنا ہے کہ ’اگر سپریم کورٹ میں نظرثانی کے بغیر انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا تو یہ قتل ہو گا۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔
نوائے وقت
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان