Categories: عالم اسلام

بنگلہ دیش: ’عبدالقادر ملّا کو پھانسی دینے میں جلد بازی‘

بنگلہ دیش میں اسلام پسند رہنما عبدالقادر ملّا کے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ ان کو پھانسی دینے میں حکومت جلد بازی سے کام لے رہی ہے اور اس ضمن میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی عدالت نے جیل کے حکام کو حکم صادر کیا تھا کہ وہ اسلام پسند رہنما عبدالقادر ملّا کو پھانسی دے دیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں عدالت نے جماعت اسلامی کے عبدالقادر ملّا کو کئی ماہ قبل موت کی سزا سنائی تھی۔
ان کے وکیل دفاع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر اعلیٰ ترین عدالت میں نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے وکیل دفاع تجُل اسلام کا کہنا ہے کہ ’اگر سپریم کورٹ میں نظرثانی کے بغیر انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا تو یہ قتل ہوگا۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔‘
عبدالقادر ملّا سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب پائے گئے تھے۔
پھانسی کا پروانہ جاری ہونے کے بعد ملّا عبدالقادر کو کسی بھی وقت پھانسی دی جا سکتی ہے جب تک کہ صدر عبدالحامد یا سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی مداخلت نہ ہو۔
اطلاعات کے مطابق پیر کے روز جماعت اسلامی کی کال پر ملک گیر ہڑتال ہوئی۔ جماعت اسلامی نے ملک میں دو روزہ ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔
بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹربیونل نے گذشتہ چند ماہ کے دوران جنگ سے متعلق مبینہ جرائم پر حکومت مخالف جماعتوں کے کئی رہنماؤں کو قید اور موت کی سزائیں سنائی ہیں۔
یہ مخصوص عدالت بنگلہ دیش کے بعض شہریوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جن پر سنہ 1971 کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ ساز باز کرنے اور ظلم ڈھانے کا الزام ہے۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کا یہ ٹربیونل بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔
اطلاعات کے مطابق عبدالقادر ملّا کی پھانسی سے ملک بھر میں تشدد کی تازہ لہر اٹھنے کا خدشہ ہے۔
عبدالقادر ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی عسکری تنظیم کے رکن تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جنگ کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔
عبدالقادر ملّا نے ان تمام الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔ ان پر میر پور کے علاوہ قتل کے کئی الزامات ہیں اور شاید اسی وجہ سے ان کو ’قصائی‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔
فروری میں ملّا عبدالقادر کو ان جرائم کا مرتکب پایا گیا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئي لیکن بعد میں ملک گیر مظاہروں کے بعد ان کی عمر قید کی سزا کو پھانسی کی ‎سزا میں تبدیل کر دیا گیا۔
اس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل سنہ 2010 میں بنایا گیا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنھوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔
بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ سنہ 1971 میں جنگ کے دوران 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ بعض محققین کے مطابق یہ تعداد تین سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago