ان کے قتل کے خلاف اہلسنت والجماعت نے کئی شہروں میں مظاہرے کئے اور دھرنے دئیے۔ لاہور میں مال روڈ پر کارکنوں نے مسجد شہداء کے باہر جہاں مولانا شمس الرحمن کی نماز جنازہ ادا کی جانی تھی 7 گھنٹے تک دھرنا دیا اور مولانا کے قاتلوں کی گرفتاری تک نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ ضلعی انتظامیہ کے افسر اور اہلسنت والجماعت کے رہنماؤں میں کئی گھنٹے مذاکرات ہوتے رہے بالآخر شام ساڑھے 6 بجے مذاکرات کامیاب ہوئے۔ انتظامیہ نے اہلسنت والجماعت کے قائدین کو یقین دہانی کرائی کہ مولانا شمس الرحمن پر حملہ کرنے والوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ جماعت کے رہنماؤں کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ مذاکرات میں طے پایا کہ اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کی وطن واپسی کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرائی جائے گی۔ جس کے بعد اہلسنت والجماعت نے مال روڈ پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر صحافیوں سے مختصراً گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ قاتل اور محرکات دونوں پر تفتیش ہو رہی ہے، جلد قاتل اور محرکات سامنے آ جائیں گے۔ اہلسنت والجماعت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ ہمارے معاملات طے ہوئے ہیں کل ہم ملک میں احتجاج کریں گے۔ جمعہ کو یوم احتجاج منایا جائے گا، 15 دسمبر کو اجلاس طلب کر لیا ہے اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو ہم احتجاج کا دائرہ بڑھا دیں گے۔ قبل ازیں مولانا شمس الرحمن کی میت نماز جنازہ کے لئے مسجد شہداء کے باہر لائی گئی۔ اس موقع پر اہلسنت والجماعت کے سینکڑوں کارکن موجود تھے۔ کارکنوں کی ٹولیاں وقتاً فوقتاً مال روڈ پر مختلف شہروں اور علاقوں سے آتی رہیں جس سے مال روڈ اور اطراف میں ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا۔ انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی۔ چیئرنگ کراس سے جی پی او چوک تک روڈ کو بیریئر لگا کر بند رکھا جبکہ حفاظتی انتظامات کے تحت مال روڈ کے اطراف کی دکانیں اور بنک بند کرا دئیے گئے۔ اہلسنت والجماعت کے کارکن جھنڈے اور کتبے اٹھائے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی کرتے رہے، کہیں کہیں توڑ پھوڑ کے واقعات بھی ہوئے۔ مال روڈ کے علاوہ نیلا گنبد اور انارکلی کے تاجروں نے بھی اپنا کاروبار بند رکھا۔ اس موقع پر مال روڈ اور اس کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ دوسری طرف اسلام آباد میں اہلسنت والجماعت کے کارکنوں نے فیض انٹرچینج پر رکاوٹیں کھڑی کر کے دھرنا دیا جس کے باعث راولپنڈی اسلام آباد سے آنے والی جانے والی سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں۔ مسافروں کو گھنٹوں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے مری روڈ اور کشمیر ہائی وے کو بھی احتجاج کرتے ہوئے بلاک کر دیا۔ علاوہ ازیں اہلسنت والجماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا اورنگزیب فاروقی لاہور پہنچے اور مولانا شمس الرحمن کے قتل پر بستی سیدن شاہ جا کر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کی۔ نماز جنازہ میں جماعۃ الدعوۃ کے رہنما امیر حمزہ، اہلسنت والجماعت خیبر پی کے کے رہنما مولانا عطاء الرحمن، جماعت اہلحدیث کے حافظ عبدالغفار روپڑی، مجلس احرار اسلام کے عطاء المومن بخاری، جے یو آئی کے عبدالرؤف فاروقی، مولانا امجد خان، حافظ اسعد عبد اور دیگر نے شرکت کی۔ دریں اثناء شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کے خلاف شیخوپورہ میں اہل سنت والجماعت کے کارکنوں نے احتجاجی جلوس نکالا دکانداروں نے فوری طور پر اپنی دکانیں مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند کر دئیے۔ بعدازاں تاجر برادری نے صورت حال کے پیش نظر شہر بھر میں مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کر دی جس سے کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ کارکنوں نے اس واقعہ کے خلاف بتی چوک شیخوپورہ میں چار گھنٹے تک دھرنا بھی دیا جس سے لاہور شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور فیصل آباد، سرگودھاکو جانے اور آنیوالی تمام ٹریفک معطل رہی۔ شہر میں لٹھ بردار موٹر سائیکل سوار نوجوان گشت کرتے رہے تاہم اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ جلوس کی قیادت ضلعی صدر حافظ محمد اشفاق گجر، حافط محمد عبداللہ قادری، مولانا عمر جواد قاسمی، حافظ محمد جہانگیر کمبوہ، حافظ عبدالحلیم ربانی سمیت دیگر رہنمائوںنے کی جنہوں نے اپنے خطابات میں مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جھنگ سے نامہ نگار کے مطابق مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کے خلاف میں اہلسنت والجماعت نے مسجد حق نواز شہید سے ایوب چوک تک احتجاجی ریلی نکالی جس کی قیادت ضلعی صدر مولانا عبدالغفورجھنگوی اور قاری رفیق حیدری نے کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے قاری رفیق حیدری نے کہا کہ اگر بھکر واقعہ کے ملزمان کو گرفتارکر لیا جاتا تو نہ ہی راولپنڈی والا واقعہ رونما ہوتا اور نہ ہی کراچی و لاہور میں اہل تشیع واہلسنت کے سرکردہ رہنمائوں کو شہید کیا جاتا۔ حکومت پنجاب اگر مثبت سوچ رکھتی تو یہ تمام واقعات رونما نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا اگر حکومت نے یہی طرز عمل اپنائے رکھا تو پھر ہم امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ ثناء نیوز کے مطابق اٹک میں اہلسنت والجماعت کے کارکنوں نے مسجد جامع اشاعت الاسلام سے فوارہ چوک تک ریلی نکالی اور مولانا شمس الرحمن کے قتل کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر کاروباری مراکز بند سکیورٹی انتظامات سخت تھے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق گوجرانوالہ میں اہلسنت والجماعت کے زیر اہتمام مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جو شیرانوالہ باغ سے شروع ہو کر گوندلانوالہ اڈہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی جبکہ اس دوران ریلی کے شرکا نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مولانا شمس الرحمن کے قتل کے خلاف مذمتی الفاظ درج تھے، ریلی کے قائدین نے کہا کہ حکومت امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور آئے روز علمائے کرام کے قتل بھی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بعدازاں مظاہرین اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔
نوائے وقت
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…