Categories: پاکستان

افغانستان جانے والے تمام سامان کی ترسیل بند

پاکستانی ٹرانسپورٹروں کی تنظیم آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن نے ڈرائیوروں پر تشدد کے واقعات کے بعد پاکستان سے افغانستان جانے والے تمام سامان کی ترسیل تحفظ فراہم ہونے تک روک دی ہے۔

تشدد کے مبینہ واقعات تحریکِ انصاف کی جانب سے اتحادی افواج کی سپلائی روکنے کے اعلان اور احتجاج کے دوران رونما ہوئے تھے۔
کراچی کی دونوں بندرگاہوں کے پی ٹی اور پورٹ قاسم سے اتحادی افواج کے علاوہ، اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان ٹرالروں اور ٹرکوں کے ذریعہ طورخم اور چمن کے راستے افغانستان پہنچایا جاتا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی دل خان کا کہنا ہے کہ تخریب کاروں اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ٹرالر پر لدا ہوا سامان نیٹو کا ہے یا کمرشل ہے:
’ کنٹینر تو ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ حکومت یہ گارنٹی نہیں دے سکتی کہ گاڑی کو آگ نہیں لگائی جائے گی یا راکٹ فائر نہیں ہوگا، اس صورت حال میں ٹرانسپورٹروں نے لوڈنگ روک دی ہے۔‘
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ٹرانسپورٹ تنظیموں کا کہنا ہے کہ معمول کے دنوں میں روزانہ سات ہزار کے قریب گاڑیوں کی افغانستان آمدو رفت ہوتی ہے۔
آل پاکستان کمبائنڈ ٹرکس اینڈ ٹرالرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل حمایت علی شاہ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت 1500 کے قریب گاڑیاں افغانستان میں پھنس گئی ہیں اور اتنی ہی تعداد میں پاکستان میں موجود ٹرکوں اور ٹرالروں پر سامان لدا ہوا ہے۔ کارگو کی تو انشورنس ہوتی ہے گاڑی اور عملے کی کوئی انشورنس نہیں ہوتی، اس لیے ہر کوئی ڈرتا ہے۔‘
پاکستان میں افغانستان سامان کی ترسیل کا کاروبار منافع بخش ہونے کے ساتھ پر خطر بھی ہے۔ ساؤتھ ایشیا ٹیرورزم پورٹل کے مطابق گذشتہ چھ سالوں میں نیٹو کا سامان اور تیل لے جانے والی 288 گاڑیوں پر حملے کیے گئے جن میں 138 افراد ہلاک اور 235 زخمی ہوئے۔
دو سال قبل پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹ پر اتحادی افواج کے حملے کے بعد حکومت نے نیٹو سپلائی معطل کردی تھی اور اس وقت بھی کئی ٹینکر اور ٹرالر پاکستان اور افغانستان میں سامان سمیت پھنس گئے تھے۔
آل پاکستان کمبائنڈ ٹرکس اینڈ ٹرالرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل حمایت علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی لوڈ ہوجائے تو دباؤ بڑھ جاتا ہے کہ جلد ترسیل کی جائے کیونکہ تاخیر کی صورت میں شپنگ کمپنی کے کنٹینر کا جرمانہ ٹرانسپورٹر کو ادا کرنا ہوتا ہے جو 50 سے 80 ڈالر یومیہ ہوتا ہے:
’اس صورت حال میں ہم گاڑیاں لوڈ کرکے کیوں پریشانی اٹھائیں، اس لیے بندرگاہوں سے گاڑیاں لوڈ ہی نہیں کی جا رہیں۔‘
بندرگاہوں کے قوانین کے تحت جب تک سامان لے جانے والی گاڑی اس سامان کو مقررہ منزل تک پہنچانے کا ثبوت پیش نہیں کرتی، اسے مزید سامان لے جانے کے لیے بندرگاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
پاکستان سے افغانستان جانے والے نیٹو کے سامان کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ اس میں اسلحہ بھی ہوتا ہے، لیکن سپریم کورٹ کو کراچی میں امن و امان کے کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا تھا کہ امریکی سفیر نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو ایک خط لکھا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کراچی کی بندرگاہوں سے صرف سفارتی اور کھانے پینے کی اشیا برآمد کی جاتی ہیں اسلحہ نہیں لایا جاتا۔ پاکستان کے کسٹم اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے بھی اس کی تائید کی تھی۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

3 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago