Categories: رپورٹس

انسانیت کے ناتے پیدل مارچ میں شرکت کی

ہاتھوں میں مقتول بلوچ دانشور اور شاعر صبا دشتیاری کی تصویر اور پیروں میں ربڑ کی معمولی سی چپل، وہ کوئٹہ میں قتل کیے گئے لیاری کے رہائشی پروفیسر صبا کی رشتے دار نہیں۔ ان کے گھر سے نہ کوئی لاپتہ ہوا اور نہ کوئی ناخوشگوار واقعے پیش آیا لیکن وہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے مارچ میں شریک ہیں۔

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل واحد خاتون ہیں جنھوں نے کوئٹہ سے کراچی تک لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کے لیے پیدل مارچ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ انسانیت اور ایک بلوچ کے ناتے انھوں نے لانگ مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا، یہ میری ذمہ داری بنتی ہے کہ بلوچستان میں جو نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ان کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے اس لانگ مارچ میں شریک ہوں اور دیکھوں کہ کون اس کی حمایت کرتا ہے؟ کون ان کی آواز سنتا ہے؟ اور آگے بڑھتا ہے۔
’کوئٹہ سے کراچی تک ہم نے کئی اذیتیں سہیں، راستے بھر میں یہ سوچتی رہی کہ جو لاپتہ ہیں ان کے لواحقین کیا سوچتے ہوں گے؟ جو سلوک مہذب معاشروں میں جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا ہمارے یہاں انسانوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔‘
بی بی گل جاگرافی اور بلوچی زبان میں ڈبل ماسٹر ہیں اور گزشتہ ایک سال سے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن سے وابستہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے اور اس کے ذہن میں نہ آئے کہ اس نے وہ کہاں رکھی ہے تو وہ پاگلوں کی طرح اس کو ڈھونڈتا ہے۔
’اب تھوڑ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جن کے پیاروں کو گم کر دیا گیا ہو، اور ان کو پتہ نہ ہو کہ وہ کہاں تو ان ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بچوں کی زندگیاں کیسی گذرتی ہوں گی، وہ بچے کیسے پڑھتے ہوں گے وہ مائیں کیسے زندگی گذارتی ہوں گی۔؟‘
نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو پر لانگ مارچ کے شرکا ناراضی کا اظہار کرتے رہے، حاصل بزنجو نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ان کے مذاکرات ہوئے ہیں، جس کے بعد گزشتہ تین ماہ سے مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔
بی بی گل کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران انھیں اخبارت اور موبائل ٹیلیفون پر پیغامات کے ذریعے یہ اطلاعات ملتی رہی ہیں کہ لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں اور مسخ شدہ لاشیں بھی مل رہی ہیں۔
اس پر امن لانگ مارچ میں خواتین کی شرکت یقیناً غیر معمولی تھی، کئی خواتین نے بچے بھی اٹھا رکھے تھے جن کے ساتھ وہ پریس کلب پہنچیں ، علی حیدر بلوچ مارچ کے اختتام تک اپنی ٹرالی چلانے کی ذمہ داری ادا کرتا رہا لیکن جمعہ کو اس کے ہم عمر کئی بچے بھی شریک تھے۔
شیر شاہ میں ایک منی بس میں موجود دو بچوں سے میں نے معلوم کیا کہ وہ کیوں آئے ہیں، ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ وہ ماما قدیر سے ملنے آئے ہیں، ان کی والدہ نے بتایا تھا کہ اس کا بیٹا گم ہوگیا ہے، وہ کوئٹہ سے پیدل آ رہا ہے۔
بلوچستان کی تاریخ بڑے بڑے سورماؤں سے بھری ہوئی ہے یا اس پر نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، نواب اکبر بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل جیسے بزرگ سیاستدانوں اور سرداروں کی چھاپ ہے لیکن اپنے کردار اور عمل سے قدیر بلوچ عرف ماما قدیر نے تاریخ کے صفحوں میں اپنا نام رقم کرا لیا ہے، یہ دوسری بات ہے کہ اس کے لیے اس عام انسان کو بڑی قربانی اور اذیت برداشت کرنی پڑی ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago