Categories: بيانات

’حضرت حسین رضی اللہ عنہ بہادری وخیرخواہی میں امام ہیں‘

ایرانی اہل سنت کے ممتاز عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو بہادری وخیرخواہی میں ’قائد اور امام‘ یا دکرتے ہوئے اسلام کے نقطہ نظرسے بوقت مصیبت صبرہی کو ضروری قرار دیا۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ (آٹھ نومبر دوہزار تیرہ) میں ایام محرم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: محرم کے ماہ میں اللہ تعالی نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کے ساتھ آزمائش میں ڈالا جس کے نتیجے میں ثابت ہوا یزید مسلمانوں کی قیادت کیلیے نااہل اور ناتوان ہے۔ یہ واقعہ ا ±س زمانے کے مسلمانوں کیلیے بہت بڑی آزمائش بن گیا۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: یزید کے دور حکومت میں دو انتہائی ناخوشگوار اور تلخ واقعات پیش آئے؛ ایک ’حرہ‘ کا سانحہ تھا جس میں مدینہ منورہ پر یزید کی فوج نے چڑھائی کرکے اہل مدینہ کو یزید کے ہاتھوں بیعت نہ کرنے کی سزا دی۔ تاریخ ہرگز اس المناک سانحے کو نہیں بھولے گی اور اس شرمناک جرم کی تشریح کیلیے الفاظ نہیں ہیں۔ دوسرا افسوسناک واقعہ صحرائے کربلا میں پیش آیا۔ امام حسین لڑنے کیلیے نہیں گئے تھے، ورنہ 72افراد کو ساتھ لیکر نہیں جاتے۔کوفیوں نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انصاف کے نفاذ کیلیے بلایا اور ان کے ایلچی، مسلم بن عقیل، کے ہاتھ پر بیعت بھی کیا؛ لیکن جب امام حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کے قریب پہنچے اور عبیداللہ بن زیاد کی فوج نے ان کا محاصرہ کیا تو اہل کوفہ ڈرگئے اور ان کی مدد کیلیے تیار نہ ہوئے۔

انہوں نے مزیدکہا: جب یزید کی فوج نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اسیر کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے انکارکیا اور ذلت پر شہادت کو ترجیح دی۔ کربلا میں ایک ایسا افسوسناک اور ناقابل فراموش سانحہ پیش آیا جسے قیامت تک نہیں بھولا جائے گا۔ اسی صحرا میں اللہ تعالی نے امام حسین اور ان کے ساتھیوں کو شہادت کے اعلی مقام سے نوازا۔ شہادت کسی مسلمان کیلیے باعث فخر ہے اور شہید کا مقام اونچا اور والا ہے۔ لیکن یزیدیوں نے نواسہ رسول ﷺاور ان کے ساتھیوں کو شہید کرکے خود ذلیل وخوار ہوئے۔

مولانا عبدالحمید نے یزید کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزیدکہا: امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید کو حکومت کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا، وہ بہت جلد کسی مرض میں مبتلا ہوکر مرگیا۔ امام حسین کے قاتلوں کو اللہ تعالی نے دونوں جہاں میں رسوا و ذلیل فرمایا۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: تمام مسلمانوں کو امام حسین کی بہادری پر فخر ہے؛ ان کے چہرہ مبارک پر سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیاتھا۔ ان کی شکل بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل کی بہت شبیہ تھی۔ امام حسین خاتم الانبیا کا نواسہ اور علی وفاطمہ کے صاحبزادہ تھے۔ بہادری وخیرخواہی میں ہمارے قائد اور امام آپؓ ہی ہیں۔ جذبہ خیرخواہی کے تحت آپ نے اہل کوفہ کی دعوت کو لبیک کہا۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: امام حسین رضی اللہ عنہ کا قیام حکومت یا قبضہ گیری کیلیے نہیں تھا، آپ اقتدار کے نہیں عدل وانصاف کے دلدادہ تھے اور انصاف ہی کی فراہمی کیلیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ آپ ظلم وجبر، آمریت اور فردواحد کی حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے تھے جو کسی سے مشورت کی ضروت بھی محسوس نہیں کرتی۔ آپ کا قیام امربالمعروف اور نہی عن المنکر کیلیے وقوع پذیر ہوا۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: یہ ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان ہو اور اہل بیت سے پیار نہ کرے۔ ہم سب اہل بیت نبوی سے محبت کرتے ہیں خاص کر ان حضرات سے جو صحابہ میں شامل تھے۔ کوئی سنی مسلمان اہل بیت کے حوالے سے غافل نہیں ہے۔ البتہ ہم صحابہ کرام اور اہل بیت دونوں سے پیار کرتے ہیں اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کو باعث نجات سمجھتے ہیں۔ دونوں گروہ ہماری مقدسات میں شامل ہیں۔ اہم کام ان بزرگوں کی اتباع ہے، یہ حضرات ہمارے لیے اسوہ و قائد ہیں۔

اسلام نے صبر کا حکم دیاہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایک شبہے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: بعض شیعہ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ اہل سنت کو امام حسین اور دیگر اہل بیت رضی اللہ عنہم کا کوئی دکھ نہیں ہے اور وہ سانحہ کربلا سے محزون نہیں ہیں۔ یہ خیال ان لوگوں کی کم علمی ونادانی کی وجہ سے پیش آیاہے؛ اہل بیت سے محبت ہمارے مسلمہ عقائد کا جزو ہے۔ ان کے فضائل پر مستقل ابواب اور روایات ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ ہر جمعے میں ہمارے خطباءعربی خطبے میں حضرات حسنین اور فاطمہ کا نام لیکر ان کا ذکر خیر کرتے ہیں۔

عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: اگر ہم اہل تشیع کی طرح عزاداری نہیں کرتے ہیں اور کالے کپڑے نہیں پہنتے ہیں تو یہ ہماری لاپرواہی کی علامت نہیں ہے؛ ہم اسلام کے حکم پر عمل کرتے ہیں جو بوقت مصیبت صبر کا حکم دیتاہے۔ ہمارا عقیدہ ہے مصیبت کی گھڑی میں بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو مارنے کے بجائے صبر سے کام لینا چاہیے۔ کپڑے بدلنے اور سیاہ رنگ پہننے کی رسم ہماری ثقافت اور مذہب میں نہیں ہے؛ حتی کہ جب ہمارے کسی عزیز کا انتقال ہوتاہے تو ہم اپنے کپڑوں کے رنگ کا خیال نہیں کرتے ہیں۔

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago