دارالحکومت تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے مرکزی نمازخانوں کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے سکیورٹی حکام نے سنی شہریوں کو نمازعید قائم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
مقامی ویب سائٹ، اصلاح ویب، کی شائع کردہ خبر کے مطابق ’صادقیہ‘ اور ’سعادت آباد‘ نامی علاقوں میں بدھ سولہ اکتوبر میں سنی باشندوں کو اکٹھے ہونے نہیں دیاگیا جہاں انہیں نمازعید قائم کرنی تھی۔
ذرائع کے مطابق عید سے پہلے ہی بااثر سنی شخصیات، سابق اور حالیہ ارکان پارلیمنٹ اور سماجی کارکنوں نے متعلقہ حکام سے اہل سنت کی علیحدہ نمازعیدکی اجازت لینے کی کوشش کی ہے، بعض حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود انہیں نمازعید کی عظیم عبادت سے محروم رکھاگیا۔
یادرہے یہ چوتھا سال ہے کہ سکیورٹی اور صوبائی حکام کی رکاوٹوں اور غیرقانونی پابندیوں کی وجہ سے سنی برادری تہران سمیت بعض دیگر بڑے شہروں میں نمازعید سے محروم ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…