جے یو آئی ایف کے سربراہ نے یہ بات کابل سے واپسی پر ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ افغانستان کے دارلحکومت میں انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی اور افغانستان امن کونسل کے اراکین سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔
جے یو آئی کی جانب سے پانچ رکنی وفد نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت اور رابطہ بڑھانے کیلئے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان کی نگرانی میں وفد میں چان اچکزئی، مولانا گُل نصیب خان، مولانا عبدالواسع اور مفتی ابرار شامل تھے۔
فضل الرحمان نے کابل میں افغان ہائی پیس کونسل کے اراکین سے ملاقات کی، جہاں دونوں جانب سے افغان صورتحال میں جے یو آئی ایف اور دیگر مذہبی رہنماؤں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے صدارتی محل میں صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کی جس میں سینیئر حکومتی اہلکار، امن کونسل کے نمائیندوں اور وزیروں سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔
صدارتی محل سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دہشتگردی کیخلاف تعاون پر زور دیا۔
جے یو آئی ایف ایک عرصے سے افغان طالبان اور ان کی غیرملکی افواج سے مزاحمت کی حمایت کرتی آئی ہے۔ تاہم افغان طالبان کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی کرزئی سے ملاقات پر کسی مثبت ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے اس ملاقات سے صدر کرزئی کے بارے میں ان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے اسے ( فضل الرحمان کے اس دورے کو) ‘ طالبان کو کمزور کرنے کا ایک ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔’
تاہم،مولانا فضل الرحمان نے اس ملاقات کو کامیاب قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین دنوں میں اس میٹنگ سے امن کیلئے وہ کچھ ممکن ہوا ہے جو گزشتہ آٹھ برس میں ممکن نہ ہوا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جے یو آئی ایف طالبان سے اس امر پر مکمل اتفاق کرتی ہے کہ خطے سے غیر ملکی افواج کو نکل جانا ہوگا اور جنگ کسی مسئلے کو کوئی حل نہیں۔
جے یو آئی ایف کے سربراہ نے افغان صدر سے ملاقات کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ڈان اردو ڈیسک
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار