ایران کے شمال میں واقع صوبہ گلستان کے’آزادشہر‘ کے سنی خطیب نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا گزشتہ سالوں کی طرح ایران کے بڑے شہروں میں سنی مسلمانوں کی نمازعید پر کوئی پابندی نہ لگائیں۔
گیارہ اکتوبر دوہزار تیرہ کے خطبہ جمعہ کے دوران مولانا محمدحسین گرگیج نے زور دیتے ہوئے کہا: ہماری دورکعت نماز سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا؛ سنی مسلمان چاہے ایرانی ہوں یا مہاجر ان کی نماز سے حکومت کے مفادات اور ملکی سلامتی خطرے میں نہیں پڑجائے گی۔
انہوں نے سوال اٹھایا: کیا سنی نمازی اپنے ساتھ بندوق اٹھا کر اکٹھے ہوتے ہیں کہ ان کی نماز ملکی سلامتی کیلیے خطرہ بن جائے؟ ہماری نماز سے ہرگز آسمان زمین بوس نہیں ہوگا! جب پوری دنیا بشمول امریکا اور یورپ میں تمام مسلمانوں کو اپنی فقہ اور مسلک کے مطابق نماز قائم کرنے اور عبادت کرنے کی اجازت ہے تو ’اسلامی جمہوریہ ایران‘ میں کیوں اہل سنت کو مسائل اور پابندیوں کا سامنا ہے؟!
شیخ التفسیر مولانا گرگیج نے اپنے خطاب میں وزارت داخلہ، صوبائی گورنرز، کمشنرز اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا آنے والی عید کے دن سنی مسلمانوں کی نمازعید کی راہ ہموار کرکے کوئی پابندی عائد نہ کریں۔ خاص کر بڑے شہروں اور دوردراز علاقوں میں بھیجے گئے پیش اماموں کے داخلہ پر پابندی نہ لگائیں۔
بت شکن+سنی آن لائن
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…