Categories: پاکستان

تحریک طالبان کا اہم کمانڈر امریکی حراست میں

امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک فوجی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈ لطیف محسود کو پکڑنے کی تصدیق کی ہے جبکہ افغان صدر نے امریکی وزیر خارجہ سے محسود کو افغان سکیورٹی فورسز سے چھڑا کر اپنے ساتھ لے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ھار کے مطابق لطیف محسود’ایک دہشت گرد رہنما‘ اور تحریک طالبان کا سینیئر کمانڈر ہے۔ترجمان نے لطیف محسود کو حراست لینے کے لیے کی جانے والی فوجی کارروائی کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق انہیں افغانستان سے گرفتار کیاگیا ہے۔
ترجمان میری ھار کے مطابق لطیف محسود تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے سال دو ہزار دس میں امریکی شہر نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں دھماکے کرنے کی کوشش کی، اس کے علاوہ پاکستان میں امریکی سفارت کاروں اور پاکستانی شہریوں پر حملے کیے۔محکمۂ خارجہ کی ترجمان کے بقول گروپ نے’امریکی سرزمین پر دوبارہ حملے کرنے کے عزم کا اعلان کیا تھا‘۔
اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی نے جمعے کی شام کابل میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں امریکی فوج کی طرف سے پاکستان تحریکِ طالبان کے رہنما لطیف محسود کو افغان سکیورٹی فورسز سے چھڑا کر اپنے ساتھ لے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا۔
جان کیری اور افغان صدر کرزئی کی ملاقات سے قبل بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے کہا کہ امریکی فوج کے 2014 کے بعد افغانستان میں رہنے سے متعلق دفاعی معاہدے کے علاوہ صدر کرزئی امریکی وزیرِ خارجہ سے اس واقعے پر بھی بات کریں گے۔
ایمل فیضی سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا اس واقعے پر افغان حکومت نے امریکی حکومت سے باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے تو ان کا کہنا تھا یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا۔
جمعرات کو مشرقی افغانستان میں امریکی فوج نے ایک ڈرامائی کارروائی میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک سرکردہ رہنما لطیف محسود کو افغان فوج سے چھڑا کر اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
تفضیلات کے مطابق امریکی فوج نے یہ کارروائی لوگر صوبے میں اس وقت کی جب افغان فوج کے ایک قافلے میں لطیف محسود کو افغان خفیہ ادارے کے حکام سے بات چیت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ امریکی فوج لطیف محسود کو بگرام کے فوجی اڈے میں لے گئی ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق افغان خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے کئی ماہ کی محنت اور کوششوں کے بعد لطیف محسود کو افغان طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے میں معاون اور مددگار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔
ایمل فیضی نے بتایا کہ افغان خفیہ ادارے نیشل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی نے کئی ماہ کی مسلسل کوشش اور خفیہ رابطوں کے بعد لطیف محسود افغان خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے ملاقات پر تیار ہوئے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے افغان اور امریکی حکومتوں کے درمیان 2014 کے بعد امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں جاری دشوار اور پیچیدہ مذاکرات میں یہ واقعہ ایک نیا تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago