Categories: پاکستان

ملا برادر رہا ہوگئے، پاکستان: نہیں ہوئے، طالبان

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے وعدوں کے برعکس ان کے سینیئر رہنما ملا عبدالغنی برادر کو رہا نہیں کیا ہے جبکہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ملا برادر کو رہا کیا جا چکا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بدقسمتی سے وہ اب بھی اپنے شب و روز جیل میں گزار رہے ہیں اور ان کی حالت قابلِ تشویش ہے اور روزبروز بگڑتی جا رہی ہے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک مختصر سا بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ملا برادر کو رہا کیا جا چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کی غرض سے پاکستان نے ملا برادر اور دیگر طالبان رہنماؤں کو رہا کیا ہے۔
طالبان کے ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ملا برادر کو ان کی خراب صحت کی وجہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوراً رہا کیا جانا چاہیے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام بارہا ملا برادر کی رہائی کے بارے میں بیانات دیتے رہے ہیں جبکہ وہ زیرِ حراست ہیں۔ اس لیے وہ حکومتِ پاکستان اور حکام سے وضاحت طلب کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں رہا کر دیا جائے۔
ملا برادر کو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے طالبان سے بات چیت کے معاملے میں کلیدی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان نے گذشتہ ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ افغان طالبان رہنما ملا عمر کے نائب ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس کے بعد 21 ستمبر کو دفترِ خارجہ نے ان کی رہائی کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں افغان مصالحتی عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے رہا کیا گیا ہے۔
طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر ایسی خبریں چلتی رہی ہیں کہ ملا برادر رہا ہو چکے ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے عبدالغنی برادر کی رہائی کے پانچ دن بعد ان کے خاندانی ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ وہ تاحال اپنے گھر نہیں پہنچے۔
افغان کے ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبروں کے مطابق اب تک جتنے بھی طالبان رہنماوں کی پاکستان کی جیلوں سے رہا کیا گیا ہے وہ افغانستان نہیں پہنچے ہیں اور زیادہ تر پاکستان ہی کے مختلف شہروں میں قیام پذیر ہیں۔
یاد رہے کہ افغان حکومت متعدد بار پاکستان سے مطالبہ کر چکی ہے کہ طالبان رہنما ملا برادر کو اس کے حوالے کیا جائے۔
ملا برادر کو فروری 2010 میں پاکستانی فوج نے گرفتار کیا تھا اور اس وقت سے وہ پاکستان میں ہی زیرِ حراست تھے۔
ان کا تعلق بنیادی طور پر افغانستان کے جنوبی ضلع ارزگان سے بتایا جاتا ہے۔ افغان امور کے ماہر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق ملا عمر اور ملا برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور 1994 میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے تھے۔
عبدالغنی برادر طالبان دور میں صوبہ ہرات کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔ وہ افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور بھی چلاتے تھے۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے طالبان کمانڈروں کےلیے ایک کتابچے کی صورت میں ضابطۂ اخلاق بھی تحریر کیا تھا جس میں جنگی گرُ، قیدیوں اور غیر ملکیوں سے سلوک اور دیگر طریقے بتائے گئے ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago