Categories: فقہ و احکام

آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی شادی

 

 

 

 

میں الحمدللہ اپنے ایمان میں شک نہیں کرتا ، لیکن میرے ذھن میں کچھ اشیاء آتی ہیں وہ یہ کہ :
جب آدم اور حواء علیہ السلام کی اولاد ہو‏ئ تو ان کی شادی آپس میں ہوئ ، تو کیا قرآن مجید میں بہن کی اپنے بھائ کی شادی حرام نہيں ہے توپھر یہ کیسے ہوا ؟

الحمد للہ
جب آپ کا دل ایمان پرمطمئن ہے توانشاءاللہ آپ کووہ وسوسے کچھ نقصان نہیں دے سکتے اس لیے کہ انسان کے دل میں جب بھی کوئ شبہ یا پھر اس کی عقل میں نصوص شرعیہ کے درمیان کوئ تعارض پیدا ہوتووہ حق پرایمان لاتا ہے اوراس شبہ کا جواب اور اس تعارض کا حل ہے اگرچہ وہ اسے اس کی معرفت نہ ہو اوروہ اس تک نہ جا سکے ۔
لیکن انسان پریہ ضروری ہے کہ وہ اپنے دل ودماغ کو شبھات کی آماجگاہ نہ بنا لے ، یا پھر اس کا کام ہی شبھات اور تعارضات کوتلاش کرنا بن جاۓ اور فائدہ مندعلم کی طلب ہی نہ کرے ، اور اسی طرح مسلمان کو شریعت کی محکم امور کی معرفت ہونی چاہيۓ تاکہ وہ متشابہ امور کوان کی طرف لوٹا سکے ۔
رہا وہ مسئلہ جوآپ نے سوال میں پوچھا ہے تو یہ معلوم ہونا چاہيۓ کہ شرا‏ئع کے مختلف ہوجانے سے احکام بھی بدل جاتے ہیں لیکن اصول اورعقائد نہیں بدلتے جو کہ سب شریعتوں میں ثابت ہیں ۔
تواگر سلیمان علیہ السلام کی شریعت میں مجسمے بنانے جائز تھے توہماری شریعت میں یہ حرام ہیں ، اوراگر یوسف علیہ السلام کی شریعت میں سجدہ تعظیم جائز تھا توہماری شریعت میں حرام ہے ، اورجب معرکوں میں حاصل ہونے والی غنیمت ہم سے پہلے لوگوں پرحرام تھی توہمارے لیے حلال ہیں ۔
اور اگرہمارے علاوہ دوسری امتوں کا قبلہ بیت المقدس تھا توہمارا قبلہ بیت اللہ ہے ، اور اسی طرح اور اشیاء بھی توآدم علیہ السلام کی شریعت میں بہن بھائيوں کا آپس میں نکاح وشادی کرنا جائز تھا لیکن اس کے بعدوالی سب شریعتوں میں حرام ، ذیل میں ہم اس مسئلہ کی وضاحت حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی سے پیش کرتے ہیں ۔
حافظ رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ :
بلاشبہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کے لیے یہ مشروع کیا تھا کہ وہ اپنی اولاد میں سے بیٹی اور بیٹے کی آپس میں شادی کردیں اس لیے یہ حالات کی ضرورت تھی ، لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کے ہردفع ایک بیٹا اورایک بیٹی اکٹھے پیدا ہوتے تھے تواس طرح وہ ان کے ساتھ شادی کرتے جوان کے علاوہ دوسری دفعہ پیدا ہوتے ۔
سدی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ : کہ ابومالک ، ابوصالح ، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ، مرۃ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اوردوسر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے :
آدم علیہ السلام جو بھی بیٹا ہوتا تواس کے ساتھ بیٹی ضرور پیدا ہوتی تواس بچی کے ساتھ پیدا ہونے والا بچہ دوسرے بچے کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی سے شادی کرتا ۔ تفسیر ابن کثير سورۃ المائدۃ آیۃ نمبر ( 27 ) ۔
میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اورآپ کوایمان اور علم نافع سے نوازے ، و صلی اللہ علی نبینا محمد ۔
واللہ تعالی اعلم .

الاسلام سوال و جواب

 

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago