Categories: مشرق وسطی

شام کے سابق وزیر دفاع علی حبیب منحرف ہو کر ترکی پہنچ گئے

 

 

 

شام کے سابق وزیر دفاع جنرل علی حبیب صدر بشارالاسد کا ساتھ چھوڑ کر پڑوسی ملک ترکی میں چلے گئے ہیں.
جنرل علی حبیب شامی صدر کے علوی فرقے کے سرکردہ لیڈر ہیں۔

 

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے ایک سنئیر رہ نما نے بدھ کو ان کے منحرف ہونے کی اطلاع دی ہے۔ اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو وہ علوی فرقے سے تعلق رکھنے والی سب سے سرکردہ شخصیت ہوں گے جنھوں نے مارچ 2011ء سے شام میں جاری خانہ جنگی اورعوامی مزاحمتی تحریک کے دوران بشارالاسد کا ساتھ چھوڑا ہے۔
حزب اختلاف کے رہ نما کمال اللبوانی نے پیرس سے اطلاع دی ہے کہ علی حبیب شامی رجیم کی گرفت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس وقت وہ ترکی میں ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حزب اختلاف میں شامل ہوگئے ہیں۔ کمال لبوانی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ سب اطلاع ایک مغربی سفارتی عہدے دار نے دی ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ علی حبیب منگل کی شب منحرف ہوئے تھے۔ وہ نصف شب سے قبل دو یا تین اور افراد کے ساتھ ترکی کی سرحد پر پہنچے۔ پھر انھیں گاڑیوں کے قافلے میں سرحد سے پار دوسری جانب لے جایا گیا”۔
ان کے ساتھی ان کے فوجی افسر تھے اور انھوں نے ہی ان کے انحراف کی تائید کی تھی۔ ان کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شام سے چلے گئے ہیں۔ تاہم فوری طور پر اس اطلاع کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
کمال لبوانی کے بہ قول: ”علی حبیب کو ایک مغربی ملک کی مدد سے شام سے اسمگل کیا گیا ہے۔ وہ معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہوں گے۔ انھوں نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی مخالفت کی تھی جس کے بعد بشارالاسد کی حکومت نے انھیں گھر پر نظربند کردیا تھا”۔
حزب اختلاف کے جیش الحر کے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ علی حبیب امریکا کے ساتھ رابطے کے ذریعے منحرف ہوئے ہیں۔
بشارالاسد کی فوج سے منحرف ہونے والے اس سابق فوجی افسر نے بتایا کہ شامی فوج کے قریباً چھتیس ہزار افسر ہیں۔ ان میں اٹھائیس ہزار علوی اور آٹھ ہزار شام کے اکثریتی اہل سنت یا دوسری اقلیتوں دروز یا عیسائیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علی حبیب انیس سو انتالیس میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ سہ دو ہزار نو سے اگست دو ہزار گیارہ تک شام کے وزیردفاع رہے تھے۔ تب انھیں شام کے سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق صحت کی وجوہ کی بنا پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس دوران یہ افواہیں بھی زیرگردش رہی تھیں کہ انھیں مظاہرین کی ہلاکتوں کی مخالفت پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
جنرل علی حبیب نے انیس سو تہتر میں اسرائیل کے خلاف جنگ اکتوبر میں حصہ لیا تھا۔ اس جنگ میں شام اسرائیل کے زیر قبضے اپنے علاقے گولان کی پہاڑیوں کوواپس لینے میں ناکام رہا تھا۔ وہ انیس سو نوے، اکانوے کی خلیجی جنگ میں بھی شریک رہے تھے۔ بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے کویت پر عراق کا قبضہ ختم کرانے کے لیے اس جنگ میں امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کا ساتھ دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago