Categories: مشرق وسطی

شام کی صورتحال پر امریکا اور روس آمنے سامنے دونوں کے جنگی بیڑے خلیج فارس پہنچ گئے

 

 

 

شام کے صدر بشارالاسد نے خبردار کیا ہے کہ شام کیخلاف فوجی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آّگ بھڑک سکتی ہے۔

فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ فرانس نے اگر امریکی حملے کا ساتھ دیا تو اسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ دوسری جانب شام نے امریکی حملہ ٹالنے کیلیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرلیا، شامی سفیر بشار جعفری نے اقوام متحدہ کے نام خط میں کہا کہ عالمی ادارہ امریکی جارحیت رکوانے کیلیے کردار ادا کرے۔

دریں اثنا فرانس نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی حملے میں کم از کم281 افراد مارے گئے، فرانسیسی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میںکیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق شواہد پیش کیے۔

اطلاعات کے مطابق انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام نے ایک ہزار ٹن سے زیادہ کیمیائی مواد ذخیرہ کر رکھا ہے جس میں سارین گیس بھی شامل ہے۔اس مسئلے پر فرانسیسی پارلیمنٹ میں بدھ کو بحث کی جائے گی۔

امریکی صدر اوباما نے بھی حملے کی حمایت کیلیے لابنگ تیز کر دی ہے۔ ادھر نیٹو کے سیکریٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے کہا ہے کہ انھیں ذاتی طور پر یقین ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی ذمے دار ہے۔ برسلز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے ایک مضبوط عالمی ردعمل بہت ضروری ہے۔ کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال پرخاموش تماشائی بنے رہے تو یہ دنیا میں ڈکٹیٹروں کو ایک خطرناک پیغام دے گا۔

مزیدبراں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے امریکی شواہد کو مسترد کردیا، انھوں نے کہا کہ ہمارے امریکی، برطانوی اور فرانسیسی دوستوں نے جو کچھ ہمیں دکھایا اس سے ہم قطعاً قائل نہیں ہوئے۔ حملے کے شواہد و تصاویر کے بارے میں شکوک شبہات ہیں۔

علاوہ ازیں ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے کہا کہ شام کے خلاف فوجی مداخلت کا مقصد صدر اسد کی حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ترکی کے وزیراعظم نے شام کے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔

بی بی سی کے سروے کے مطابق تین چوتھائی برطانوی شام پر حملے کے مخالف ہیں اور یہ کہ برطانوی دارالعوام کے اراکین شام پر فوجی کارروائی کو رد کرنے میں درست تھے۔ 72فیصد افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اس اقدام سے امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات متاثر ہوں گے اور دو تہائی افراد نے کہا کہ اگر اس سے تعلقات متاثر ہوتے بھی تو انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔40 فیصد افراد نے وزیر اعظم کی کارکردگی پر مثبت رائے دی جبکہ42 فیصد نے منفی رائے دی، برطانوی وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ شام پر دوبارہ دارالعوام میں ووٹ نہیں لیا جائے گا۔
ایکسپریس نیوز

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago