Categories: مشرق وسطی

اخوان کی طرف سے بدیع کی گرفتاری کی مذمت

 

 

 

مصر کی اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمین نے اپنے رہنما محمد بدیع کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سابق صدر مرسی کی بحالی تک احتجاجی مظاہرہ جاری رہیں گے۔

ادھر مصر کی حکومت نے فوج کے ہاتھوں اخوان المسلمین کے سینکڑوں حامیوں کی ہلاکت پر مستعفی ہونے والے نائب صدر محمد البرادعی کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
محمد البرادعی نےگزشتہ ہفتے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کم از کم 638 افراد کی ہلاکت کے بعد استعفیٰ دیا تھا اور اب حکام کے مطابق ان پر قومی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی جس میں مصر کو امداد کے معاملے پر غور کیا گیا۔ تاہم حکام نے کہا ہے کہ امریکی پالیسی میں فی الحال کوئی تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔
امریکہ نے پہلے ہی مصر کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بند کر دی ہیں، اور اس پر دباؤ ہے کہ وہ مصری فوج کو دی جانے والی ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد بند کر دے۔
مصر کے پراسکیوٹر جنرل کے مطابق البرادعی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ایک عام شہری کی درخواست پر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے اس اقدام سے یہ تاثر ملا کہ حکومت نے طاقت کا حد سے زیادہ استعمال کیا ہے۔
اگر البرادعی پر یہ الزام ثابت ہوا تو انہیں پندرہ سو ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
محمد البرادعي مصر میں روشن خیال اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ ہیں اور انہوں نے چودہ جولائی کو نائب صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اور چودہ اگست کو احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔
انہوں نے تین جولائی کو محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کے اقدام کی حمایت کی تھی۔
محمد بدیع کی گرفتاری اور مظاہروں کا اعلان
منگل کو اخوان المسلمین نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ مرسی کی بحالی تک احتجاج جاری رکھیں۔
اخوان کے سیاسی دھڑے حریت و انصاف پارٹی کے ایک رکن خالد حنفی نے کہا کہ تنظیم اپنے رہنما محمد بدیع کی گرفتاری کی وجہ سے اپنے راستے سے نہیں ہٹائی جا سکتی۔
انھوں نے کہا: ’ان کا بڑا مرتبہ ہے اور ہمیں بہت دکھ ہے، لیکن اخوان معاشرے کی تمام سطحوں پر کام کرتی ہے اور اس گرفتاری سے ہماری سرگرمیاں اور پرامن احتجاج کا حق متاثر نہیں ہو گا۔‘
جماعت نے محمود عزت کو اپنا عبوری سربراہ بنانے کا اعلان بھی کیا۔ محمود عزت بھی آج کل روپوش ہیں۔
محمد بدیع کچھ عرصے سے مصر کی عبوری حکومت سے بچنے کے لیے روپوش تھے اور انہیں سکیورٹی فورسز نے پیر اور منگل کی درمیانی شب قاہرہ کے شمال مشرق میں واقع علاقے نصر کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا۔
گذشتہ ہفتے اس جگہ سے قریب ہی ایک احتجاجی کیمپ میں ہونے والی جھڑپوں میں بہت خون خرابہ ہوا تھا۔
محمد بدیع کی گرفتاری سے ایک دن پہلے ان کے صاحب زادے عمار بدیع کو قاہرہ کے رمسیس چوک میں مظاہرے کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے بعد حراست میں لیے جانے والے اخوان المسلمین کے سینیئر رہنماؤں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ بدیع کے نائب خیرات الشاطر کو مرسی کی معزولی سے تین روز قبل ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بدیع کی گرفتاری کے مناظر مصر میں ٹی وی پر بھی نشر کیے گئے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بدیع کی گرفتاری سے پہلے ہی شورش کے شکار ملک میں مزید بے چینی پھیل جائے گی۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق فوج ٹی وی پر محمد بدیع کی گرفتاری کے مناظر نشر کر کے اخوان المسلمین پر اپنی فتح کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ مصر میں عبوری حکومت نے ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کی ہے جس کے بعد اہم شہروں میں شام سے صبح تک کا کرفیو لگایا گیا ہے۔
ملک میں اسلام پسند مظاہرین کے خلاف کارروائی میں گزشتہ بدھ کے بعد سے اب تک 900 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں ایک سو سے زائد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مصر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مظاہروں میں شامل اخوان المسلمین کے ایک ہزار سے زائد ارکان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب سابق صدر محمد مرسی کی بحالی کے دھرنا دینے والے مظاہرین کو زبردستی اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ مظاہرین کی اکثریت کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago