اہل سنت ایران کے نامور عالم دین اور خطیب، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، نے جمعہ سولہ اگست کے بیان میں مصری فوج کو غدار قرار دیتے ہوئے اسلام پسند
انہوں نے کہا: مصری فوج نے اسلام پسندوں کے پرامن دھرنے پر یلغار کرکے در حقیقت ’جمہوریت‘ پر بمباری کی ہے۔ ہرسمت سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ اکثر ممالک اور تنظیموں نے اس بربریت کی مذمت کی ہے۔ ہم نے بھی اس ظالمانہ یلغار کی شدید مذمت کی۔ ہم مصری عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں سے تعزیت کرتے ہیں۔ پوری دنیا کو معلوم ہے مصر میں صہیونی اور سامراجی طاقتوں کے اشارے پر بغاوت کی گئی اور پھر نہتے شہریوں کا خون نہلا دیاگیا۔
ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: فوجی بغاوت کا مطلب ہے آمریت اور جابر حکام کو حکومت دینا؛ فوجی بغاوت کی مدد سے حکومت ہاتھ میں لینے والے لوگ آمر اور اجارہ دار لوگ ہوتے ہیں۔ مصر میں فوجی بغاوت سے قبل برسرِ کار حکومت عوام کے ووٹ اور ایک جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی تھی؛ اگر کسی کے خیال میں وہ حکومت ناکام تھی تو حکومت کی مدت ختم ہونے تک صبر کا دامن ہاتھ میں لیتا اور جمہوری طریقے سے حکومت تبدیل کرنے کی خواہش پوری کی جاتی۔ لیکن باغیوں نے ثابت کردیا انہیں جمہوریت سے دشمنی ہے اور وہ ہرگز اسلام اور اسلام پسندوں کو برداشت نہیں کرسکتے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: مصری فوج کی ذمہ داری ملک کی حاکمیت کا دفاع اور عوام کی جانوں کی حفاظت ہے؛ اس فوج کو عوام کے قتل عام کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ دنیا میں کسی بھی فوج کو اپنے ہی عوام کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے زور دیتے ہوئے کہا: ہم پوری دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مصری فوج کی اس غداری اور نہتے شہریوں کے قتل عام پر شدید مذمت کریں۔ جو لوگ مصر میں یا مصر سے باہر فوجی بغاوت کی حمایت کرتے ہیں، وہ بھی ہوش کے ناخن لیں اور اس تباہی میں شریک نہ ہوجائیں۔ ان کی خیر اسی میں ہے؛ اس ناقابل فراموش انسانی المیہ کی مذمت کریں تا کہ مزید ان کی عزت پر داغ نہ لگے۔
ایران کی عزت و طاقت کا راز غیرجانبداری میں ہے
اپنے خطبہ جمعے کے ایک حصے میں نومنتخب صدر ڈاکٹر روحانی کے مجوزہ پندرہ وزراءکے ’مجلس شورا‘ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ممتاز سنی رہ نما نے مزیدکہا: ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے وزراءکو جس بات پر بہت تاکید کی ہے وہ میانہ روی ہے۔ اگر غیرجانبداری کی پالیسی اپنائی جائے تو ملک کی عزت و طاقت محفوظ رہ سکتی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اکثر وزراءنے بھی اپنے خطابوں میں تمام ایرانی قومیتوں اور مسالک کے حقوق یقینی بنانے پر زور دیاہے؛ یہ ایک اچھا اقدام ہے اور نئی حکومت کا مثبت پہلو ہے۔
مولانا عبدالحمید نے امید ظاہر کی نومنتخب حکومت قومیتوں اور مسالک کے حوالے سے اپنے نعروں کو جامہ عمل پہنائے۔ انہوں نے کہا: اگر مختلف قومیتوں اور مسالک کے اہل اور قابل افراد کو قومی اور صوبائی سطح کی ذمے داریوں میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے تو اس سے قومی امن اور اتحاد کو بہت فروغ ملے گا۔
شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان کے صدر نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت، طاقت اور بہترین حکمت اسی میں ہے کہ حکام کا رویہ غیرجانبدارانہ ہو؛ ہمیں امید ہے نئے صدر اپنے کیے گئے وعدوں کو پورے کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات اٹھائیں گے اور ان کی کامیابی کیلیے ہم دعاگو ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…