ابتدائی طور پر تین افراد کے ہلاک اور18 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح دھماکہ پشاورکے مصروف ترین یونیورسٹی روڈ پربس اسٹا پ کے قریب ہواجس میں ایک پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
دھماکے کے وقت پولیس کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس بھی اسی سڑک سے گزر رہے تھے تاہم وہ محفوظ رہے البتہ ایک مسافر بس دھماکے کی زد میں آگئی تھی۔
دھماکے کےفوراً بعد سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد اورریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، ہلاک وزخمیوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیاہے جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں تاہم فوری طورپرواضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دھماکہ خودکش تھا یا بارودی مواد کہیں نصب کیا گیا تھا۔
تاحال کسی نے دھماکے کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دی نیوز ٹرائب
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…