ابتدائی طور پر تین افراد کے ہلاک اور18 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح دھماکہ پشاورکے مصروف ترین یونیورسٹی روڈ پربس اسٹا پ کے قریب ہواجس میں ایک پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
دھماکے کے وقت پولیس کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس بھی اسی سڑک سے گزر رہے تھے تاہم وہ محفوظ رہے البتہ ایک مسافر بس دھماکے کی زد میں آگئی تھی۔
دھماکے کےفوراً بعد سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد اورریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، ہلاک وزخمیوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیاہے جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں تاہم فوری طورپرواضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دھماکہ خودکش تھا یا بارودی مواد کہیں نصب کیا گیا تھا۔
تاحال کسی نے دھماکے کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دی نیوز ٹرائب
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…