ابتدائی طور پر تین افراد کے ہلاک اور18 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح دھماکہ پشاورکے مصروف ترین یونیورسٹی روڈ پربس اسٹا پ کے قریب ہواجس میں ایک پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
دھماکے کے وقت پولیس کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس بھی اسی سڑک سے گزر رہے تھے تاہم وہ محفوظ رہے البتہ ایک مسافر بس دھماکے کی زد میں آگئی تھی۔
دھماکے کےفوراً بعد سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد اورریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، ہلاک وزخمیوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیاہے جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں تاہم فوری طورپرواضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دھماکہ خودکش تھا یا بارودی مواد کہیں نصب کیا گیا تھا۔
تاحال کسی نے دھماکے کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دی نیوز ٹرائب
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار