Categories: مشرق وسطی

عراق:فوجی کارروائی کے ردعمل میں تشدد کے واقعات،110 افراد ہلاک

عراق کے شمالی شہر کرکوک میں فوج کے سنی مظاہرین کے احتجاجی کیمپ پر حملے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور مسلح افراد نے خاص طور پر شمالی شہروں اور قصبوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں۔

گذشتہ دوروز میں تشدد کے ان واقعات میں ایک سو دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے بغداد کے شمال میں واقع علاقے سلیمان بیک میں حملہ کرکے پانچ فوجیوں کو ہلاک کردیا۔دارالحکومت کے شمال مشرق میں واقع قصبے خالص میں القاعدہ مخالف ملیشیا الصحوہ کے ایک چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ملیشیا کے چار اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
شمالی شہر موصل میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے فوج اور پولیس پر حملے کیے ہیں۔ان میں دو اہلکار زخمی ہوگئے اور وہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں تین مسلح افراد مارے گئے ہیں۔شمالی قصبے طرمیہ میں پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر بم حملہ کیا گیا۔اس واقعے میں دوپولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوگیا ہے۔
عراقی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز شمالی شہر کرکوک کے نزدیک واقع قصبے حوائجہ میں اہل سنت کے ایک احتجاجی کیمپ پر دھاوا بول دیا تھااور ان کی مظاہرین پر فائرنگ اور ان کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔
اس کیمپ پر حملے کے بعد مغربی صوبہ الانبار کی رابط کمیٹیوں نے قبائلی سرداروں کو ہتھیاربند ہونے اور ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے حوائجہ میں پیش آئے اندوہناک واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کے قیام حکم دیا ہے۔
درایں اثناء عراقی پارلیمان کے اسپیکر اسامہ النجیفی نے حوائجہ میں پیش آئے واقعہ کو تباہی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج کی مظاہرین کے خلاف کارروائی آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔انھوں نے اس حوالے سے بھی سوال اٹھایا ہے کہ مظاہرین کو ہدف بنانے کے لیے عراقی فورسز کو کس نے حکم دیا تھا۔
کرکوک کی صوبائی کونسل نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کی مذمت کی ہے۔عراق کے شمالی اور مغربی صوبوں میں اہل سنت دسمبر سے وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور انھوں نے حوائجہ میں ایک احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا جس پر سکیورٹی فورسز نے منگل کی صبح حملہ کردیا۔
اس واقعے کے بارے میں اب تک متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔عراقی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے دفاع میں مظاہرین پر فائرنگ کی تھی اور ان پر پہلے مظاہرین کی جانب سے فائرنگ شروع ہوئی تھی جبکہ مظاہرین کے قائدین کا کہنا ہے کہ جب سکیورٹی فورسز نے صبح کے وقت کیمپ میں چھاپہ مار کارروائی کا آغاز کیا تو اس وقت مظاہرین غیر مسلح تھے۔
مظاہرین اور مقامی حکام نے جھڑپوں میں ہلاکتوں سے متعلق بھی متضاد اعداد وشمار فراہم کیے ہیں۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کیمپ میں لڑائی میں تین افسروں سمیت تئیس افراد مارے گئے ہیں جبکہ تین فوجی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد چھبیس بتائی ہے۔ان میں چھے فوجی شامل ہیں۔
ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ لڑائی میں تینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں مسلح تصادم میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔تاہم واقعے کے دوسرے روز بھی ہلاکتوں کے حقیقی اعدادوشمار سامنے نہیں آئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago