گذشتہ دوروز میں تشدد کے ان واقعات میں ایک سو دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے بغداد کے شمال میں واقع علاقے سلیمان بیک میں حملہ کرکے پانچ فوجیوں کو ہلاک کردیا۔دارالحکومت کے شمال مشرق میں واقع قصبے خالص میں القاعدہ مخالف ملیشیا الصحوہ کے ایک چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ملیشیا کے چار اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
شمالی شہر موصل میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے فوج اور پولیس پر حملے کیے ہیں۔ان میں دو اہلکار زخمی ہوگئے اور وہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں تین مسلح افراد مارے گئے ہیں۔شمالی قصبے طرمیہ میں پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر بم حملہ کیا گیا۔اس واقعے میں دوپولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوگیا ہے۔
عراقی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز شمالی شہر کرکوک کے نزدیک واقع قصبے حوائجہ میں اہل سنت کے ایک احتجاجی کیمپ پر دھاوا بول دیا تھااور ان کی مظاہرین پر فائرنگ اور ان کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔
اس کیمپ پر حملے کے بعد مغربی صوبہ الانبار کی رابط کمیٹیوں نے قبائلی سرداروں کو ہتھیاربند ہونے اور ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے حوائجہ میں پیش آئے اندوہناک واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کے قیام حکم دیا ہے۔
درایں اثناء عراقی پارلیمان کے اسپیکر اسامہ النجیفی نے حوائجہ میں پیش آئے واقعہ کو تباہی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج کی مظاہرین کے خلاف کارروائی آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔انھوں نے اس حوالے سے بھی سوال اٹھایا ہے کہ مظاہرین کو ہدف بنانے کے لیے عراقی فورسز کو کس نے حکم دیا تھا۔
کرکوک کی صوبائی کونسل نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کی مذمت کی ہے۔عراق کے شمالی اور مغربی صوبوں میں اہل سنت دسمبر سے وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور انھوں نے حوائجہ میں ایک احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا جس پر سکیورٹی فورسز نے منگل کی صبح حملہ کردیا۔
اس واقعے کے بارے میں اب تک متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔عراقی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے دفاع میں مظاہرین پر فائرنگ کی تھی اور ان پر پہلے مظاہرین کی جانب سے فائرنگ شروع ہوئی تھی جبکہ مظاہرین کے قائدین کا کہنا ہے کہ جب سکیورٹی فورسز نے صبح کے وقت کیمپ میں چھاپہ مار کارروائی کا آغاز کیا تو اس وقت مظاہرین غیر مسلح تھے۔
مظاہرین اور مقامی حکام نے جھڑپوں میں ہلاکتوں سے متعلق بھی متضاد اعداد وشمار فراہم کیے ہیں۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کیمپ میں لڑائی میں تین افسروں سمیت تئیس افراد مارے گئے ہیں جبکہ تین فوجی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد چھبیس بتائی ہے۔ان میں چھے فوجی شامل ہیں۔
ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ لڑائی میں تینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں مسلح تصادم میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔تاہم واقعے کے دوسرے روز بھی ہلاکتوں کے حقیقی اعدادوشمار سامنے نہیں آئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…