پولیس ذرائع کے مطابق بعقوبہ کے نزدیک واقع علاقے کنعان میں جامع مسجد عمر بن عبدالعزیز کے باہر نمازجمعہ کے بعد یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے سے پھٹ گئے۔بم سڑک کے کنارے نصب کیے گئے تھے اور ان سے مسجد سے گھروں کو واپس جانے والے نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
پولیس حکام نے ان دونوں بم دھماکوں میں سات افراد کی ہلاکت اور تیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔بعقوبہ سے دس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع علاقے صدا میں ایک اور مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد تیسرا بم دھماکا ہوا جس میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ عراق کے مختلف شہروں میں اس سال کے آغاز سے نماز جمعہ کے بعد بم دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔عراق میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم پر اہل تشیع اور سکیورٹی فورسز پرخودکش بم حملوں اور بم دھماکوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے لیکن آج دونوں مقامات پر اہل سنت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
گذشتہ ماہ عراق میں تشدد کے واقعات میں دوسو اکہتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر بغداد اور دوسرے شہروں میں بم دھماکوں میں مارے گئے تھے۔ سال 2011ء کے آخر میں عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد ایک ماہ میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔قبل ازیں گذشتہ اگست میں کم وبیش اتنی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار