‘سانا’ کے مطابق پہلا قتل عام دمشق کے نواحی شہر کفربطنا میں ہوا۔ اس میں آٹھ بچوں سمیت پندرہ افراد مارے گئے۔ قتل عام کی دوسری واردات دمشق کے جنوب میں واقع فلسطینی مہاجر کیمپ ‘الیرموک’ میں ہوئی جس میں سات افراد جاں بحق جبکہ چالیس زخمی ہوئے۔
ادھر دمشق کی پوش کالونی دمر میں سرکاری فوج نے دو مقامات پر خون کی ہولی کھیلی جس میں پندرہ افراد فوجی سیکیورٹی اداروں کی حراست میں تشدد سے جان کی بازی ہار گئے۔ قتل عام کے ایک الگ واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
شامی فوجیوں کے ہاتھوں قتل عام کا آخری واقعہ حموریہ شہر میں ہوا جس میں شامی فوج کی گولا باری کا نشانہ بننے والے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔
اسی دوران حمص شہر میں سرکاری فوج نے شہریوں کے قتل عام کی تین کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ شامی شہر تلکخ میں قتل عام کیا گیا ہے۔ انقلابی کونسل کا کہنا ہے بشار الاسد کے فوجیوں اور اجرتی قاتلوں نے بارہ شہریوں کو تیز دھار آلے سے ذبح کر دیا ہے۔
بابا عمرو کالونی میں چار نعشیں ملی ہیں جن سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ علاقے میں بشار الاسد فوج کے خلاف سرگرم رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو سرکاری فوجیوں نے قتل کیا اور بعد میں ان کی لاشوں کو آگ لگا دی۔ قلعہ الحصن میں تیسرا قتل عام ہوا جہاں شامی فوجیوں کی نصب کردہ گھات کی زد میں آ کر جیش الحر کے دس افراد مارے گئے۔
العربیہ نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…