وزیر اعظم محمد علی زیدان نے کہا ہے کہ ان کی کابینہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر محمد القطوس کو غوت الرومن کے ضلعے سے اس وقت اغوا کیا گیا ہے جب وہ مصراتہ جا رہے تھے۔
اغوا کارروں نے وزیر اعظم کے مشیر کو اغوا کرنے کے بعد ان کی گاڑی کو وہیں چھوڑ دیا۔
ایک حکومتی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ محمد القطوس کو ایک جعلی چیک پوسٹ پر روک کر اغوا کیا گیا۔
طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار رانا جواد نے بتایا ہے کہ حکومت نے جب سے مسلح گروہوں غیر مسلح کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں اس کے بعد سے سکیورٹی کے حالات خراب ہوئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایک مسلح گروہ نے وزیر اعظم ہاؤس کو گھیرے میں لے کر ان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ اتوار کے روز ایک مسلح گروہ نے وزارت قانون کی عمارت کو کئی گھنٹے تک گھیرے میں لیے رکھا۔
کرنل قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد نئی حکومت ابھی تک اپنی اتھارٹی کو قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام