شام کے ایک ذریعے کے مطابق باغی جنگجوؤں نے تین روز کی لڑائی کے بعد خان طومان میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ڈپوؤں پر قبضہ کیا ہے۔
اس ذریعے کے مطابق ان ڈپوؤں میں چھوٹا اسلحہ اور گولہ بارود کے ڈبے پڑے ہوئے تھے جبکہ بڑے ذخیرہ کو چارماہ قبل منتقل کردیا گیا تھا۔دوسری جانب حکومت مخالف کارکنان کا کہنا ہے کہ باغی جنگجوؤں کے ہاتھ ایک بڑا ذخیرہ لگا ہے اور آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو میں جنگجو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈبوں کو معائنہ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں ایک جنگجو فلم بنانے والے سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ راکٹ کی فلم بنائے۔وہ بتارہا ہے کہ 107ایم ایم کیلبر کے ہیں اور ایرانی ساختہ ہیں۔وہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ راکٹ ہیں جن سے بشارالاسد ہمیں نشانہ بنارہے تھے۔
ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اسلحہ ڈپوؤں پر جیش الحر کے شہدائے شام اور حطین بریگیڈز نے قبضہ کیا ہے۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جیش الحر کی اس کامیابی کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ خان طومان میں اتوار کو بھی سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی تھی۔
ادھردارالحکومت دمشق میں سرکاری فوج نے جنوبی علاقے الحجرالاسود میں گولہ باری کی ہے۔دمشق کے علاقے البارزہ میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔وسطی صوبہ حمص کے مختلف علاقوں میں بھی شامی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار