حمص کے اس علاقے پرشامی فوج نے گذشتہ سال خونریز لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا اور اس کے ساتھ جھڑپوں میں سیکڑوں باغی جنگجو مارے گئے تھے۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ”آج علی الصباح باغی جنگجوؤں نے بابا عمرو پر اچانک دھاوا بول دیا تھا اور وہ اس کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں”۔
باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر سے رابطہ رکھنے والے ایک کارکن عمر نے بتایا کہ ”باغی جنگجو رات کے وقت کالونی کے اندر داخل ہوگئے تھے اور اس کے بعد انھوں نے فوجی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا”۔
یاد رہے کہ حمص کے اس علاقے پر صدر بشار الاسد کی فوج نے گذشتہ سال مارچ میں وحشیانہ بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے اور باغی جنگجوؤں نےجدید اسلحے سے لیس شامی فوج سے شکست کھانے کے بعد اس علاقے کو خالی کر دیا تھا۔ شامی صدر 27 مارچ 2012ء کو اپنے فوجیوں کی فتح کے بعد سرکاری ٹی وی پر نمودار ہوئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق شامی فوج کا حمص کے 80 فی صد علاقے پر کنٹرول تھا۔ اس نے کئی روز قبل باغیوں کے زیر قبضہ خالدیہ اور دوسرے علاقوں پر کنٹرول کے لیے کارروائی شروع کی تھی اور اس دوران ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں سے بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی تھی۔
رامی عبدالرحمان کے بہ قول شامی فوج نے حمص کے دوسرے علاقوں اور خاص طور پر خالدیہ پر کنٹرول برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کر رکھی تھی اور باغیوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بابا عمرو پر اچانک حملہ کر دیا تھا اور پھر انھوں نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔باغیوں کے بابا عمرو کالونی پر باغیوں کے حملے کے ردعمل میں شامی فوج کی فوری طورپر کسی کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام