Categories: افغانستان

پاکستان تمام طالبان قیدی رہا کردے، امن مذاکرات سے الگ رہے، سابق طالبان لیڈر

سابق طالبان رہنما سید محمد اکبر آغا نے کہا ہے کہ امن مذاکرات صرف اس صورت میں ہوسکتے ہیں کہ تمام غیر ملکی فوجی افغانستان چھوڑ دیں جبکہ امریکی فوج طالبان کی گردن پر پائوں رکھ کر مذاکرات چاہتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو امن مذاکرات سے الگ رہنا چاہیے کیونکہ پہلے ہی طالبان کو کہا جاتا ہے کہ انھیں پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔ ایکسپریس نیوز کی اینکر پرسن منیزے جہانگیر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سید اکبر آغا نے کہا کہ طالبان کی اسلامی شدت پسندی پر بات نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے ترجمان افغان حکومت کے طالبان کے افغان پاسپورٹ پر پیرس کا سفر کرنے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے وہی پاسپورٹ استعمال کیا جو وہ 2001ء سے قبل اپنی حکومت کے دور میں استعمال کرتے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ طالبان پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرنے سے ہچکچا رہے تھے کیونکہ اس سے طالبان کے پاکستان حکومت کے زیر اثر ہونے کے تاثر کو مزید تقریت ملتی۔ اکبر آغا نے کہا کہ طالبان صرف امریکا سے مذاکرات کریں گے، ہم نے کبھی بھی پاکستان یا افغانستان کو مذاکرات کیلیے نہیں بلایا، طالبان ایک حقیقت ہیں اور انھیں پاکستان کے ساتھ میز پر بیٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم صرف امریکا سے امن مذاکرات کریں گے اور افغان حکومت کو بعد کے مرحلے پر اعتماد میں لیا جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اعتماد بحال کرنے کیلیے گوانتانامو سے قیدیوں کو رہا کرے اور گارنٹی دے کہ ان کیخلاف مقدمات نہیں چلائیں جائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ طالبان قیدیوںکو رہا کرے اور جہاد کرنیوالوں کو گرفتار کرنا اور انھیں پیسوں کیلیے امریکا کے حوالے کرنا اسلام آباد کا غیر اسلامی کام تھا۔ انھوں نے پاکستان پر طالبان کو دھوکا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو غیر مشروط طور پر تمام طالبان قیدی رہا کردینے چاہییں اور افغانستان کے مسائل حل کرنے کیلیے مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ انھوں نے تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں پر تنقید سے احتراز کیا اور کہا کہ پاکستانی طالبان افغان طالبان کی حمایت میں اپنی حکومت کیخلاف حملے کرتے ہیں مگر انھوں نے عام شہریوںپر حملوں کی مذمت کی۔
انھوں نے کہا کہ افغان طالبان کو اس بات کا غصہ ہے کہ پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے رہنمائوں کو گرفتار کرکے امریکی ایماء پر اپنی شرائط منانے کی کوشش کی تاہم افغان طالبان پاکستانی عوام کو حکومتی اقدامات کا ذمے دار نہیں سمجھتے۔ یاد رہے 9 سال قبل سید اکبر آغا کو اقوام متحدہ کے 3 کارکنوںکو اغواء کرنے پر 16 سال قید کی سزا ہوئی تھی مگر 2009 میں صدر کرزئی نے انکی سزا معاف کردی اور رہا کردیا، اب وہ کابل کے نواح میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ ملاعمر کے سابق چیف آف اسٹاف اور اب طالبان کے مذاکرات کار سید طیب آغا کے کزن ہیں۔تفصیلی انٹرویو ایکسپریس نیوز پر آج شام 4 بجے نشر کیا جائیگا۔

ایکسپریس نیوز

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago