شامی قومی اتحاد کے رہنما معاذ الخطیب نے رواں ہفتے اٹلی کے شہر روم میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فیصلے میں تبدیلی کی وجہ امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ کی جانب سے شامی عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے مخصوص امداد کی فراہمی کی یقین دہانی ہے۔
شامی حزبِ اختلاف نے سفارتی مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ بیرونی دنیا شام میں ہونے والے قتل عام کو بند کرانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
اس سے قبل برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پیر کو شامی اپوزیشن پر زور دیا تھا کہ وہ جمعرات کو روم میں ہونے والی بات چیت میں حصہ لے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شامی نتیجہ خیز بات چیت چاہتے ہیں اور وہ وعدہ کرتے ہیں کہ یہ صرف بات چیت برائے بات چیت نہیں ہوگی۔
یر کو برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات کے بعد جان کیری نے شامی اپوزیشن کونسل کے صدر معاذ الخطیب سے بھی فون پر بات کی تھی۔
اسی بات چیت کے بعد شامی رہنما کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ادھر شام کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مسلح باغیوں سمیت اپنے تمام مخالفین سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
شامی اپوزیشن رہنما معاذ الخطیب نے تین ہفتے پہلے ملک میں تشدد کے خاتمے کے لیے شامی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ان کی کوششوں کو روس سمیت تمام عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…