Categories: بيانات

قرآن وسنت کی اتباع؛ انسانیت کی نجات کاواحد راستہ

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے اپنے خطبہ جمعہ میں قرآن پاک اور سنت نبوی علی صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کو انسانیت کیلیے ذہنی دباؤ اور مشکلات وبحرانوں سے نجات کا واحد راستہ قرار دیا۔

ایرانی شہر زاہدان کے سنی مسلمانوں سے بائیس فروری دوہزار تیرا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے بیان کا آغاز سورت النحل کی آیت 97 سے کیا: “مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ”، (جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔) آیت میں مذکور ’’حیاۃ طیبۃ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: دورحاضر میں مختلف قسم کی پریشانیوں اور کرب و اضطراب نے انسانی معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور تقریبا دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں لوگ پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔ صلح اور سکون ناپید ہوتا جارہاہے۔

انہوں نے مزیدکہا: افسوسناک بات یہ ہے کہ پریشانیوں کا اکثر حصہ مسلمانوں کو نصیب ہواہے۔ پرانے زمانے میں سہولتوں کی کمی کے باوجود لوگ زیادہ آرام و سکون سے زندگی گزار رہے تھے، لیکن اب جبکہ ترقی اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور انسان چاند پر دستک دے رہاہے، شرعی اور دینی علوم میں بھی بعض کامیابیاں حاصل ہوگئیں ہیں، ہر سو پریشانی ہی پریشانی ہے۔ مختلف تنظیمیں، مجالس اور این جی اوز مہم چلارہے ہیں تاکہ لوگوں کو پریشانیوں سے نجات دلائیں لیکن ان کی سکیمیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ایسے ٹینشن اور پریشانی گھر سے شروع ہوتے ہیں؛ میاں بیوی اور باپ بچوں کے درمیان ناچاقی رہتی ہے، معاشرے کی سطح پر مختلف خاندانوں اور قبائل میں جھگڑا رہتاہے، پڑوسی ایک دوسرے سے گلہ مند ہیں، عوام حکام سے شکوہ کرتے ہیں کہ انہیں حقوق نہیں ملتے اور حکام کو عوام سے شکایت ہے کہ قانون کی پاسداری نہیں ہوتی۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: قرآن وسنت کی پیروی ایسے مسائل کا واحد حل ہے۔ اگر قرآن پاک اور سنت نبوی کی روشنی میں موجودہ انسانی معاشرے کے حالات کا تجزیہ کریں تو واضح طورپر معلوم ہوگا آج کا انسان فطرت کی راہ سے منحرف ہوچکاہے اور اپنے رب کی نہیں مانتا۔ جس طرح ہر مشین اور پروگرام کو ایک ’کنٹرول روم‘ کی ضرورت ہے، اسی طرح انسانوں کو بھی ایک کنٹرول روم کی ضروت ہے؛ انسانیت کا کنٹرول روم ’اسلامی شریعت‘ ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ انسان اس روم کی ہدایات پر عمل نہیں کرتا۔ انسان چشم کشا اور دلفریب ظاہری ترقی کے باوجود اس حقیقت سے غافل ہے کہ کامیابی کی راہ صرف اللہ کی اطاعت و بندگی ہے۔

حضرت شیخ الاسلام نے ’قرآن وسنت کے صریح احکام کی بلاچون وچرا پیروی‘ پر زور دیتے ہوئے کہا: ہر شخص پر ضروری ہے کہ کسی چون وچرا اور شک سے ایسے احکام کی اتباع کرے جو صاف اور شفاف ہیں۔ ایسے احکام میں انسانی فکر کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں جن کی تاویل کی جائے۔ یاد رکھیں جب انسان شریعت کے احکام ماننے سے انکار کردے اور گناہ ومعصیت ہرسو عام ہوجائے تو یہ راہ شریعت سے انحراف ہے؛ سیلاب، زلزلہ، طوفان، باہمی نزاع اورچپقلش جیسے عذاب راہ فطرت و شریعت سے انحراف کے نتائج ہیں۔

انہوں نے مزیدکہا: انسان کا دل دھکتاہے جب وہ لوگوں کو اس حال میں دیکھتاہے جب شیطان کی جانب رخ کرتے ہیں اور اپنے رب پر پشت کرتے ہیں۔ فحاشی و عریانی، نشہ، چوری و ڈاکہ زنی، سودخوری، رشوہ خوری، کرپشن، جھوٹ، خیانت و غدر، وعدہ خلافی، بہتان تراشی اور دیگر قسم کے گناہ معاشرے میں پھیل چکے ہیں جس سے دل غمزدہ ہوتاہے اور بندہ کرب و اضطراب کا شکار ہوتاہے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: تمام سرگرم تنظیمیں، مجلسیں اور حتی کہ اقوام متحدہ انسان کی پریشانیوں کے خاتمے کیلیے کوئی نسخہ پیش کرنے سے عاجز ہوچکی ہیں۔ لیکن اسلام نے ان تمام پریشانیوں اور بحرانوں کا بہت آسان حل پیش کیا ہے جو ہر دور میں کارآمد ہے۔ یہ راہ حل قرآن و سنت کی صحیح پیروی ہے؛ اسلامی شریعت کی اتباع سے ذہنی دباؤ اور ٹینشن ختم ہوتے ہیں۔ اگر کسی کا قابل قبول ایمان ہو اور وہ ہمیشہ اللہ کی یاد و ذکر میں مگن ہو اور اس کے احکام کی اتباع کرے تو اس کے تمام مسائل اور پریشانی ختم ہوجائیں گے۔ قلبی سکون و آرام کی واحد راہ اللہ کی یاد و ذکر ہے۔ جب دل اللہ کی طرف متوجہ ہوتاہے تو اطمینان و سکون طاری ہوجاتاہے۔ لیکن جب ناچیز دنیا انسان کا مطمح نظر ہو تو پریشانی ہی پریشانی اس کا حصہ ہوگا۔

اپنے بیان کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے کہا: عصرحاضر کی تبدیلیوں سے یوں معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالی ہم مسلمانوں کو بیدار کرنا چاہتاہے، اللہ رب العزت مسلمانوں کو یہ سمجھانا چاہتاہے کہ دنیا کی پریشانیوں سے جان چھڑانا ہے تو اسلامی شریعت کی جانب لوٹ آؤ؛ قرآن وسنت کی راہ تمام سابقہ انبیائے کرام کی راہ بھی ہے۔ اسلامی شریعت کے احکام کی پیروی کے سلسلے میں مسلمانوں سے کوئی عذر قبول نہیں ہوگا، چونکہ اسلام کے احکام آسان اور قابل عمل ہیں جو انسان کی طاقت سے باہر نہیں ہیں۔ بندگی کا تقاضا یہ تھا کہ روزانہ پچاس نمازیں ادا کی جائیں لیکن اللہ کا فضل و کرم ہے کہ محض پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اسلامی شریعت کی پیروی سے زندگی پرسکون اور آرام ہوجاتی ہے۔ ہمیں دل وجان سے شریعت پر عمل کرنا چاہیے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago